قندیلیں — Page 150
۱۵۰ حضرت مولوی صاحب کے انتقال کے بعد میرا دل بہت بے چین رہتا کہ مولوی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کی عمر ۷۲ سال بتائی تھی جس کا وقت قریب چلا آ رہا ہے۔ہر وقت بزرگوں سے ملاقات کی تڑپ رہتی۔اسی جستجو میں ایک دن حضرت مولوی عبد اللطیف بہاولپوری کے ہاں دعا کا کہنے چلی گئی۔ان کی خدمت میں عرض کیا کہ خدا نے مولوی غلام رسول صاحب کو ۷۲ سال عمر بتائی تھی۔ابھی تو میرے بچے چھوٹے ہیں۔آپ خدا سے دعا کریں۔انہوں نے میرے لئے دعا مانگنے کا وعدہ کیا۔چند دنوں کے بعد میرے شو مر کیپٹن ڈاکٹر بشیر احمد حضرت مولوی عبداللطیف صاحب کا ایک رقعہ ہاتھ میں پکڑے گھر آئے اور کہنے لگے رقعہ پڑھو۔پڑھا تو لکھا تھا۔دعا کے بعد آواز آئی " بضع سنين" ساتھ ہی تفہیم لکھی ہوئی تھی کہ اس کا مطلب ۳ سے ۹ تک ہند سے بنتا ہے۔یہ لفظ سورہ یوسف علیہ السلام کے قید خانے میں رہنے کی مدت کے بارے میں آیا ہے جس کا مطلب ہے تقریباً؟ سال حضرت یوسف علیہ السلام قید میں رہے۔اللہ نے اپنے پیارے بندے کی ویسے ہی بات پور ہی کر دی۔ڈاکٹر تاب کو 2 سال کے بعد پورے 9 سال مزید عمر عطا ہوئی اور ڈاکٹر صاحب نے ۸۱ سال کی عمر میں وفات پائی۔(الفضل ۲۹ جنوری ۹۵ صفحه (۵) خدا تعالیٰ یہ سائیکل مجھے دلائے رانا فیض بخش نون تحریر فرماتے ہیں کہ محترم سروال جمعدار خدا بخش خان بزدار مخلص اور احمدیت کے شیدائی تھے میرے پیارے اور گہرے دوست تھے۔