قندیلیں — Page 13
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار قادیان میں ایک صاحب محمد عبد اللہ ہوتے تھے جنہیں لوگ پروفیسر کہ کر پکارتے تھے۔وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن بہت مخلص تھے مگر جوش اور غصہ میں بعض اوقات اپنا توازن کھو بیٹھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کی مجلس میں کسی نے بیان کیا کہ فلاں مخالف نے حضور کے متعلق فلاں جگہ بڑی سخت زبانی کی ہے اور حضور کو گالیاں دی ہیں ، پر وفیسر صاحب طیش میں بولے اگر میں ہوتا تو سر پھوڑ دیتا۔حضرت مسیح موعود نے بیساختہ فرمایا نہیں نہیں ایسا نہیں چاہیے۔ہماری تعلیم صبر اور نرمی کی ہے۔پروفیسر صاحب اس وقت غصہ سے آپے سے باہر ہو رہے تھے۔بولے واہ صاحب! واہ ! یہ کیا بات ہے۔آپ کے پیر یعنی درسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بڑا بھلا کہے تو آپ مباہلہ کے ذریعہ اس کو جہنم تک پہنچانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کو ہمارے سامنے گالیاں دے تو ہم صبر کریں۔پروفیسر جناب کی یہ غلطی تھی۔حضرت مسیح موعود سے بڑھ کر کس نے صبر کرتا ہے مگر اس چھوٹے سے واقعہ سے عشق رسول اور غیرت و ناموس رسول کی وہ جھلک نظر آتی ہے جس کی مثال کم ملے گی۔(تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۵۹۰ ) عہد دوستی بڑا قیمتی جو ہر ہے میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص ایک دفعہ مجھ سے عہدِ دوستی باند سے مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہوا اور کچھ ہی