قندیلیں

by Other Authors

Page 133 of 194

قندیلیں — Page 133

۱۳۳ نماز ختم ہونے کے بعد حضرت صاحب کے پیروں سے لپٹ جاتے اور بعض دفعہ نہایت محبت۔ادب اور پیار سے کھینچ لیتے۔بعض دفعہ جو نہی آپ ہاتھ بڑھاتے حضرت صاحب خود ہی آپ کی طرف اپنا پیر بڑھا دیتے۔(الفضل ۱۳ اگست ۱۹۹۴ء) ماں سے محبت کا عہد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب فرماتے ہیں کہ " انگلستان جانے کے وقت خاکسار کی عمر اٹھارہ سال تھی۔وہاں پہنچ کر جب طبیعت میں جدائی کا احساس پیدا ہوا اور والدین کی شفقت کا حقیقی اندازہ ہونے لگا تو خاکسار کے دل میں بھی اپنے والدین کے لئے ایک نئی محبت بیدار ہوگئی اور متواتر ترقی کرتی چلی گئی۔چنانچہ ایک موقعہ پر خاکسار نے خصوصیت سے والدہ صاحبہ سے ایک عہد کے طور پر لکھا کہ میں آپ کے لئے محبت کا ایک بحر بے پایاں اپنے ساتھ لاؤں گا اور یہ جذبہ بڑھتا چلا جائے گا اور اس میں انشاء اللہ کبھی کمی نہیں آئے گی۔اس عہد کے اظہار کے بعد اللہ تعالیٰ نے والدہ صاحبہ کو ۲۵ برس اور زندگی عطا فرمائی اور خاکسار کو اپنے فضل اور رحم سے اس عہد کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔" ( اصحاب احمد جلد یاز دہم مثه ) میں لنگر خانے کی خشک ٹوٹیوں کو بند کرتا ہوں محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اپنے والد محترم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ بوڑھے میں لنگر خانہ میں کھانا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔اور روٹی بھی خشک ہو جاتی ہے سبادا آپ بیمار ہو جائیں۔بہتر ہے کہ آپ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب