قندیلیں — Page 112
١١٢ کوئی نہ کھولے۔میں نے وہ خط حضور کے سامنے رکھ دیا۔حضور نے فرمایا منشی نتا کیا ہے۔میں نے عرض کیا حضرت اس خط پر لکھا ہوا ہے کہ سوائے حضور کے اس خط کو کوئی نہ کھونے اس لئے حضور ہی اس کو کھول کر پڑھیں۔حضرت مسیح موعود نے خط مجھے واپس دیتے ہوئے فرمایا۔منشی صاحب آپ ہی اس کو پڑھیں ہم اور آپ کوئی دو ہیں۔اس (الفضل ۲۴ اگست ۱۹۴۷) کلام الہی شفاء للناس حضرت مولوی فضل دین صاحب کو عشق کلام الہی کی غیر معمولی نمایاں صفت کی وجہ سے اللہ تعالی نے بہت زیادہ کامیابیوں اور ترقیات سے نوازا۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے ساتھ کلام الہی پڑھنے کے لئے رہے۔شاگرد کو دلچسپی اور شوق ہو اور پڑھانے والا مولانا راجیکی صاحب جیسا متجر عالم ہو تو علمی اور عملی ترقیات کا خود ہی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیگی انہیں بہت توجہ اور شوق سے پڑھاتے تھے اور مولانا نے ان سے کہا ہوا تھا کہ آپ بے دھڑک جس وقت چاہیں مجھ سے پڑھیں حتی کہ نزع کے وقت بھی اگر کچھ دریافت کریں کلام الہی کے بارہ میں تو امید ہے اس وقت بھی بشر طیکہ میری زبان چل سکی ہیں یقیناً آپ کو اس آیت کا مطلب سمجھا دیگا۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب لاہور میں درس دیا کرتے تھے تو وہ چند دن کے لئے شکر گڑھ بھیجے گئے۔مولوی صاحب بھی ساتھ تھے۔اسی اثناء میں حضرت مولانا صاحب کو بخار آگیا ، اور ان کی اس بخار کی حالت میں کوئی بات اسے