قندیلیں — Page 106
1۔4 میں گر کر مر گئی تھی۔یہ بھی مفلس آدمی تھا اور یہ مویشی ہی اس کی پونجی تھی۔والدہ مایہ ان دنوں ڈسکہ ہی میں مقیم نہیں جب انہیں اس واقعہ کی خبر پنچی تو قیاب ہوگئیں۔بار بار کہیں کہ آج اس بے چارے کے گھر ماتم کی صورت ہوگی۔اس کا ذریعہ معاش جاتا رہا۔اس کے بیوی بچے کیس آس پر جئیں گے۔جب اس کے لڑکے کے ہاتھ سے قارق نے بچھڑی کی رستی لے لی ہوگی تو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی۔پھر دُعا میں لگ گئیں کہ یا اللہ تو مجھے توفیق عطا کر کہ میں اس مسکین کی اور اس کے بیوی بچوں کی اس مصیبت میں مدد کر سکوں۔میاں جہاں کو بلوایا اور کہا کہ آج یہ واقعہ ہو گیا ہے۔تم ابھی ساہوکار کو بلا کر لاؤ۔میں اس کے ساتھ اس شخص کے قرضہ کا تصفیہ کروں گی اور اس کی ادائیگی کا انتظام کروں گی تا شام سے پہلے پہلے اس کے مویشی اسے واپس مل جائیں۔اور اس کے بیوی بچوں کو ڈھاری بندھے میاں جہاں نے کہا کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا۔یہ شخص ہمارا مخالف ہمارے دشمنوں کے ساتھ شامل ہے۔والدہ صاحبہ نے خفگی سے کہا کہ تم مثل جولا ہے کے بیٹے ہو اور میں چوہدری سکندر خاں کی ہو اور چوہدری نصر اللہ خاں کی بیوی اور ظفر اللہ خاں کی ماں ہوں اور میں تمہیں خدا کے نام پر ایک بات کہتی ہوں اور تم کہتے ہو کہ میں نہیں کروں گا۔تمہاری کیا حیثیت ہے کہ تم انکار کرد۔جاؤ میں یہ حکم دیتی ہوں۔تو را گرد اور یاد رکھو۔ساہوکار کو کچھ سکھانا پڑھانا نہیں کہ تصفیہ میں دقت ہو " اس وقت ظہر کا وقت ہو چکا تھا والدہ صاحبہ نے عبادت میں بہت دعا کی کہ یا اللہ ! میں ایک عاجز عورت ہوں۔تو ہی اس موقعہ پر میری مدد فرما۔اور یہ دعا بھی کی کہ میرے بیٹے عبداللہ خان اور اسد اللہ خان جلد پہنچ جائیں۔