قندیلیں — Page 102
١٠٢ کے ساتھ ساتھ آئے اور کچی سڑک پر پہنچ کر کہ کہ میں کچھ باتیں علیحدگی میں کرنا چاہتا ہوں۔شاہ صاحب نے ایک طرف جا کر ان کی باتیں سنیں۔بعد میں مفصل علوم نہ ہو سکا کہ کیا باتیں ہوئیں۔نہ شاہ صاحب نے بیان کیا۔اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا میر حسن نماز کے ارادہ سے مسجد میں پہنچے ہوں گے۔یہ نیت نہ ہوتی تو مسجد میں انتظار نہ کرتے بلکہ اطلاع بھیجوا کر ملاقات کر لیتے۔گویا دوسرے علماء مفکرین کی طرح نہ تھے بلکہ ساتھ نماز پڑھنے میں بھی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔الفضل 14 ص ) واقعہ بیعت والدلہ چوہدری ظفر اللہ خانصاحب چوہدری صاحب کچھری سے واپس آئے تو حسب دستور السلام علیکم کہا اور حال دریافت کیا۔تو میں نے کہا کہ میں بفضل تعالیٰ بہیت کر آئی ہوں۔انہوں نے کہا کیا بیچے نیچے نہیں نے کہا ہاں پہنچے نیچے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور رسول کی برکت سے۔تب چوہدری صاحب نے کہا کہ پھر آپ کا اور ہمارا خانہ خدا میں نے کہا کہ ہر ایک نے جدا جدا خانے میں جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم الگ الگ رہیں گے۔میں نے کہا کہ مرنے کے بعد سب نے الگ الگ جگہ ہی رہنا ہو گا حال دیکھ کر میری والدہ ڈر گئیں۔میں نے کہا کہ آپ اس بات سے گھبرائیں نہ کہ اگر مجھے گھر سے نکال دیں گے تو میں آپ پر بوجھ بن جاؤں گی۔میں کسی پر بوجھ نہیں بنوں گی۔اللہ تعالیٰ جنگل اجاڑ میں بھی میرے مقدر کی خوراک و پوشاک مہیا کریگا۔چوہدری صاحب مرحوم پاس کھڑے ہوئے تھے۔انہوں نے بھی یہ بات سن لی اور