قندیلیں — Page 103
١٠٣ حیران تھے کہ میں ان سے ڈرتی کیوں نہیں۔مغرب کے وقت وہ وضو کر رہے تھے۔خادم بستر بچھانے آیا تو انہوں نے اسے کہا کہ میرا البستر ساتھ کے کمرے میں کرنا خادم نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ بالا خانے کے کسی کمرہ میں اپنا بہتر رہتے نہیں ونگی۔کمرہ کی تبدیلی پر ہی کیا اکتفا کرنا ہے۔منزل ہی تبدیل کر لیں۔چوہدری صاحب نے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا کہ میں احمد ہی ہوں اور آپ غیر احمدی۔اس لئے ہم ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے۔یہ سن کر چو ہدری صاحب نے اپنی رائے تبدیل کرلی۔گود کے بچے اسد اللہ خان کو میں لے کر لیٹ گئی۔تو چوہدری صاحب نے کہا کہ مجھے بھی بیت والا واقعہ سناؤ کہ کس طرح گئیں اور کس طرح بیعت کی تب میں نے ساری تفصیل بیان کی اور سوتے وقت اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔چوہدری صاحب نے کہا کہ آپ نے تو کبھی اپنا چہرہ ڈھا نیا نہ تھا آج کیا ہوا میں نے کہا کہ میں احمدی ہوں اور آپ غیر احمدی میں میرا دل نہیں چاہتا کہ میں اپنا چہرہ کھلا رکھوں۔میں چار دن حسب طریق چوہدری صاحب کی خدمت کرتی رہی لیکن میں خوش ہو کر ان سے گفتگو نہ کرتی تھی۔آپ چار راتیں قرآن شریف اور بخاری شریف کے مطالعے میں مصروف رہے اور چوتھے روز نماز فجر کے بعد جب آپ گھر لوٹے تو بیعت کر کے کوٹے۔اس دن حضور نے واپس قادیان تشریف لے جانا تھا۔عبادت سے واپس آکر چوہدری صاحب نے کہا۔السلام علیکم۔مبارک ہو۔مبارک ہو! میں بیعت کر آیا ہوں نہیں نے خدا کا شکر ادا کیا۔اور اسی وقت بطور شکرانہ نفل ادا کئے۔(الحکم ۲۱ جنوری ۱۲۵)