قندیلیں — Page 101
14 دن کے بعد۔۔۔۔- حافظ سلطان نمونیہ والی طاعون سے۔۔۔مرگیا۔اس کے بعد اس کو نہلانے والا بھی مر گیا۔اور دونوں کے علاوہ طاعون ہی سے چند دن کے اندر سلطان کے کہنے کے اٹھائیں یا تمہیں آدمی ہلاک ہو گئے۔(اصحاب احمد جلد یاز دہم ص ۴۱-۴۲) صاحب علم کی تکریم ذکر اقبال میں مرقوم ہے کہ " مرزا غلام احمد قادیانی اور مولوی حکیم نورالدین بھی شاہ صاحب کی بہت عزت کرتے تھے اور مرزا صاحب تو ایک مدت تک سیالکوٹ رہ بھی چکے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شاہ صاحب (مولانا میر حسن) کے داماد خورشید انور بعارضہ وق بیمار ہو گئے۔شاہ صاحب انہیں قادیان لے گئے تاکہ حکیم نورالدین سے علاج کروائیں۔قادیان پہنچ کر بیت الذکر میں گئے اور اس دریچہ میں جابیٹھے جہاں مرزا صاحب بیٹتے تھے۔لوگ ان کو جانتے نہ تھے۔انہوں نے انہیں وہاں سے اٹھا دیا۔لیکن پھر دریچے کے پاس ہی آبیٹھے۔مرزا صاحب آئے تو سلام کا معمولی جو اب دے کر بیٹھ گئے اور متوجہ نہ ہوئے۔شاہ صاحب نے کہا کہ غالباً آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔مرزا صاحب نے غور سے دیکھا تو بڑی محبت اور تپاک سے ملے اور مولوی عبدالکریم سیالکوٹی کو بلا کر کہا کہ شاہ صاحب کو اچھی جگہ ٹھہراؤ۔دو باتوں کی خاص طور پر تاکید کی ایک یہ کہ شاہ صاحب کو صبح ہی صبح بھوک لگ جاتی ہے اس لئے حسب خواہش ان کو صبح ہی صبح کھانا دے دیا جائے۔دوسرے کہ انہیں اچھی کتابیں پڑھنے کے لئے دی جائیں۔ساتھ ہی کہا کہ صبح چائے میرے ساتھ ہی پیئیں۔بہت خاطر تواضع کی اور جب شاہ صاحب واپس جانے لگے تو مرزا صاحب دو میل تک سکتے