قندیلیں — Page 79
29 بات دراصل یہ تھی کہ حضور کی طرف سے ان دنوں کے مالی حالات کے پیش نظر جو خرچ ملتا تھا اس سے اتنی گنجائش نہیں نکل سکتی تھی کہ کھلا گھی خرچ کیا جاسکے اور جتنا بھی اس غرض کے لئے خرچ کیا جا سکتا تھا اس میں باورچی نے مطلوبہ پراٹھے پکانے سے انکار کر دیا تحقہ باورچی مصر تھا کہ یا مجھے زیادہ دو یا مجھ سے کام نہیں ہو سکتا۔ادھر خرچ کی تنگی اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔چنانچہ دو ایک روزے اسی کشمکش میں گزر گئے۔اور گلہ کے اراکین سالن کے ساتھ عام روٹی کھا کر ہی گزارا کرتے رہے اور ماشکی نے امی جان سے شکایت کی کہ خشک روٹی سے روزے رکھ کر مجھ سے اتنی محنت کا کام نہیں ہوتا۔حالانکہ محنت کرنے والوں کو روزے کے دنوں میں اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ اس رات سے آپ نے پراٹھے پکانے شروع کئے۔اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت فرمائی کہ اس گھی میں جس نے باورچی کے نزدیک اتنے افراد کے پراٹھے پکنے ناممکن تھے سارے عملے کی ضرورت پوری ہوتی رہی۔بیماری کی وجہ سے آپ کو خاصی تکلیف اٹھانی پڑتی تھی مگر آپ کہتی تھیں۔ہمیں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ محنت کرنے والے لوگ سحری کے وقت خشک روٹی کھائیں۔ان دنوں بھی آپ دبی زبان سے اس بیماری کی شکایت کیا کرتی تھیں۔اس ڈر سے کھل کر بات نہیں کر سکتی تھیں کہ کہیں ڈاکٹر بستر پر نہ لٹا دیں اور میں اس نواب سے محروم رہ جاؤں۔ر تابعین اصحاب احمد جلد سوم بسيرة ابتم طاہر صفحه ۲۸۸) تحریک جدید کا بہانہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع فرماتے ہیں جن دنوں مہمان نہ ہوں گھر کو کھانا اتنا سادہ اور بے قیمت ہو جاتا تھا کہ بعض دفعہ کھانا کھاتے ہوئے کوئی ملنے والا اچانک