قندیلیں

by Other Authors

Page 51 of 194

قندیلیں — Page 51

اد ہے۔میں نے کہا کہ ہمارے ایک دوست کی بیوی ہے میری بیوی نے کہا کہ یہ مجھ سے ایسا کہتی ہے۔اور اس کی باتیں اس کے سامنے نہیں نقل کر دیں۔وہ سنتے ہیں فوراً وہاں سے چل دی۔مجھ کو کچھ کہنے کی نوبت نہ پہنچی۔اس کی لڑکی کی جس شخص کے ساتھ شادی ہوئی۔یعنی اس کا داماد تپ دق سے جلد مر گیا۔پھر دوسرے کے ساتھ شادی کی چند روز بعد تقریباً ایک ہزار روپیہ دیگر اس سے طلاق حاصل کی۔اب بھی وہ لڑکی موجود ہے۔قرآن مجید میں اسی واسطے علی العموم عورتوں کو گھروں میں آنے سے روکا گیا ہے۔" (مرقاة الیقین صفحه ۱۸۲-۱۸۳) جو شخص کسی کی تنقید کرتاہے خود بھی اسکی ذلت اٹھاتا ہے حضرت امام اول فرماتے ہیں۔پنڈ دادنخان اور میانی کے درمیان ایک ندی ہے۔بیانی میں ہمارا گھر تھا پنڈ دادنخان میں ہمارا مدرسہ تھا۔میانی سے پنڈ دا تھا آتے ہوئے دریا پر میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے دریا میں داخل ہوتے وقت اپنا تہہ بند سر پر کھول کر رکھ دیا اور ننگا ہو کر چلنے لگا۔ایک دوسرے شخص نے اس کو بڑی لعنت ملامت کی اور نہایت سخت سست کہا کہ اس طرح ننگا ہوکر کیوں دریا میں جاتا ہے۔پہلے شخص کے پیچھے دوسرا شخص بھی دریا میں داخل ہوا جوں جوں آگے بڑھتا گیا۔پانی گرا آتا گیا۔اور وہ تہ بند او پر اٹھاتا گیا۔جب اس نے دیکھا کہ پانی تو شاید ناف تک آجائے گا تو اس نے بھی تہہ بند کھول کر سر پر رکھ لیا اور پہلے شخص کی طرح بالکل ننگا ہوگیا۔اس وقت میری سمجھ میں یہ نکتہ آیا کہ جو شخص کسی دوسرے کی تحقیر کرتا ہے وہ خود بھی اسی قسم کی ذلت اٹھاتا ہے۔اگر وہ دوسرا شخص