قندیلیں — Page 191
۱۹۱ آجائے تو فوراً سوار ہو کر روانہ ہوں میفتی فضل الرحمن صاحب کہتے ہیں کہ میں سویا ہوا تھا کہ خواب میں دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود میرے پاؤں دبا رہے ہیں اور میں جلدی میں مٹھا ہوں اور پگڑی تلاش کرتا ہوں ادھر یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ یکایک انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص پاؤں دبا رہا ہے۔انہوں نے زور سے آواز دی حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔" میاں فضل الرحمان، مٹھو جلدی کام ہے " یہ گھبرا کر اٹھے اور انگیٹھی پر اپنی پگڑی تلاش کرنے لگے۔اندھیرا تھا۔حضرت نے پوچھا کیا کر رہے ہو۔انہوں نے عرض کیا کہ پگڑی تلاش کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ یہ میری پگڑی باندھ لو۔مولوی یار محمد صاحب آئے ہیں۔والدہ محمود بیمار ہیں۔تم فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر جاؤ میں خط لکھتا ہوں اور ان کے قلم سے جواب لکھوا کر کر مفتی فضل الرحمان صاحب کہتے ہیں کہ میں نے گھوڑے کے آگے دانہ رکھ دیا اور تیار ہو گیا۔حضرت نے خط ختم کیا تو مولوی عبد الکریم صاحب نے فجر کی آذان دی میں سوار ہو کر چلا آیا۔اور یہ حیرت انگیز امر ہے میں نہیں جانتا میرے لئے زمین کس طرح سمٹ گئی ہیں قادیان پہنچا تو نمازہ ہو رہی تھی نہیں نے گھوڑے کو دروازے کے ساتھ کھڑا کیا اور اوپر جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔حضرت اماں جان خود تشریف لائیں اور میں نے واقعہ عرض کیا اور خط دے کر کہا کہ اس کے لفافہ پر ہی جلد حضور اپنی خیریت کی خبر لکھ دیں چنانچہ اماں جان نے ایسا ہی کیا اور میں فوراً روانہ ہو گیا اور میں نہیں جانتا۔کیا ہوا کہ میرا گھوڑا گویا پرواز کرتا ہوا جا رہا تھا۔جب گورداسپور پہنچا ہوں تو نماز ختم ہوئی تھی حضرت مسیح موعود نے دریافت فرمایا کہ تم ابھی گئے نہیں نہیں نے عرض کیا کہ جواب سے آیا ہوں۔أسيرة مهدی از یعقوب علی عرفانی جلد سوم صفحه ۳۳۷)