قندیلیں — Page 172
۱۷۲ دوست کے معیار پر اترنا محترم چوہدری رحیم بخش شیخو پورہ کے متعلق مکرم نسیم سیفی صاحب فرماتے ہیں کہ تھانے دار کے بیٹے اور خود بھی تھانے دارا نہ مزاج رکھتے تھے۔احمدی ہونے سے پہلے ٹھاٹھ باٹھ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔کہ چوہدری صاحب جہاں دوستوں کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کیا کرتے تھے ایک دن اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے ایک بال ٹوٹ گیا اور گھر گیا۔آپ کو اس بات کا احساس ہوا کہ میری مونچھ کا بال اس طرح سے زمین پر گر جائے چنانچہ تمام دوستوں سے کہا کہ اس بال کو تلاش کریں۔جب بال تلاش کر لیا گیا۔تو کہتے ہیں کہ ایک چھوٹے سے جنازے کی کیفیت میں اسے دفن کیا گیا۔یہ اس زمانے کی ٹھاٹھ باٹھ کا منظر تھا۔احمدیت کے بعد ایک احمدی نوجوان کہیں سے شیخو پورہ آیا۔وہ بیکار تھا۔آپ نے کہا کہ کوئی بات نہیں ہم آپ کو کام دیں گئے۔چنانچہ آپ نے اس کے لے ایک ریڑھی کا انتظام کیا اور گنے خرید دیئے اور کہا کہ اس کی گنڈیریاں بنا کر بیچا کرو محترم چوہدری صاحب سارے ٹھاٹھ باٹھ کے باوجود اس نوجوان کی حوصلہ افزائی کے لئے اس نوجوان سے پیار سے باتیں بھی کرتے اور کہتے کہ گنڈیریوں کو اپنی ریڑھی میں رکھو۔اور جو ان کی گانٹھیں ہیں وہ مجھے دیتے جاؤ۔میں ان کی یہ گانٹھیں چوستا رہوں گا۔اس میں دوستوں کے ساتھ دوستی نبھانے اور انہی کے معیار پر آ جانے کا ایک خاص رنگ نظر آتا ہے۔الفضل ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ ص ۳)