قندیلیں — Page 130
١٣٠ دلوں میں گھر کرنے والا عمل شیخ نعمت اللہ صاحب مرحوم برج انسپکٹر بڑے مخلص احمدی تھے دریائے چناب کا پُل جو ربوہ کے قریب ہے ان کا بنوایا ہوا ہے۔انہوں نے اور کئی پل بنوائے۔وہ اس کام میں ماہر تھے اور اپنی ذہانت کی وجہ سے مقبول اور ہر دلعزیز تھے۔انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ میں جب شدھی کی تحریک چلی۔تو وہ ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے دفتر کے آدمیوں میں تحریک کی کہ وہ بھی شدھی کے خلاف کوئی حصہ لیں۔غرضیکہ ۷۰۰ روپیہ جمع کیا اور ایک مولوی ١١٩٢٣ صاحب کو اس کام کے لئے ملکانہ کے علاقہ میں بھیجا گیا مگر مولوی صاحب تکلیف کا مقابلہ نہ کر سکے اور چند دنوں کے بعد ہی جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آگئے اور نعمت اللہ صاحب مرحوم کو بڑی مایوسی ہوئی۔وہ کہتے تھے کہ انہیں دنوں میں ایک احمدی ٹھیکیدار ان کے ماتحت کام کرتا تھا۔بڑا مالدار تھا لیکن خواندہ نہ تھا۔وہ حسرت سے یہ کہتا کہ کاش مجھے بھی علاقہ شدھی میں حضرت صاحب کوئی ڈیوٹی سپرد کر دیں۔یہ بات اس احمدی ٹھیکیدا کو غمگین رکھتی۔آخر ایک دن نعمت اللہ صاحب مرحوم نے دیکھا کہ وہ ٹھیکیدار بڑا خوش ہے بستر اور بائیسکل لئے سیٹیشن پر موجود ہے اور شدھی کے علاقہ میں جارہا ہے اور کہ رہا ہے کہ خدا کا شکر ہے حضرت صاحب نے مجھے یہ ڈیوٹی دے دی ہے کہ میں علاقہ ملکانہ میں دیہ یہ ویہہ مرتیوں کی ڈاک تقسیم کیا کروں۔اس لئے میں نے بائیسکل ساتھ لیا ہے۔میرے نصیب جاگ اٹھے ہیں۔غرضیکہ وہ ٹھیکیدار روانہ ہو گیا۔نعمت اللہ صاحب مرحوم کہتے تھے کہ ایک طرف میں نے دیکھا کہ ایک مولوی صاحب کافی روزینہ لیکر بھی تبلیغ نہ کر سکے اور دوسری طرف یہ احمدی با وجود مالدار ہونے