قندیلیں — Page 124
۱۲۴ مجھے معاف کر دیں میں نے یہ روپے گھر گھر مانگ کر اکٹھے کئے ہیں۔اس کا یہ کہنا تھا کہ آپ کا غصہ فرد ہو گیا اور آپ نے ساتھ ساتھ پہلنا شروع کر دیا۔ٹہلتے ٹہلتے اس کے قریب جاتے تو پانچ یا دس کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیتے۔اور پھر میں نے دیکھا کہ نوٹوں کی وہ دیتی آہستہ آہستہ تمام کی تمام دوبارہ ڈرائیور کے ہاتھوں میں منتقل ہو گئی اور والد صاحب خالی ہا تحفہ نہیں بلکہ رحمدلی کے بدلہ رحمت الہلی کے ڈھیروں ڈھیر لے کر گھر واپس آگئے اصحاب احمد جلد دوازدهم صفحه ۱۷۵-۱۷۶) درویشانہ زندگی محترمه طیبه آمنه صاحبه بیگم مکرم مرزا مبارک احمد صاحب اپنے والد محترم حضرت نواب محمد عبد اللہ صاحب کے متعلق تحریر فرماتی ہیں کہ جب آخری بیماری میں چیک اپ کے لئے جانے لگے تو امی نے بلا کر کہا کہ ہسپتال جانا ہے تم اپنے ابا جان کے کپڑے الگ چھوٹے سوٹ کیس میں رکھ دو میں کپڑے کیا رکھتی۔وہاں تین بازی والی بنیان تین چار لکیر دار نائٹ سوٹ پاجامے پانچ چھ قمیص جن میں سے اکثر کے کالر خراب۔اسی طرح چند ایک ومال محل کپڑے تھے جو بکس میں پڑے تھے نہیں روتی جاتی تھی اور دل میں کہتی جاتی تھی۔ابا جان ہزاروں روپیہ خرچ ہوتا ہے اور آپ نے نفس کو اس قدر مارا ہوا ہے۔اکثر یہ ہوتا تھا۔وفات سے چند مہینے پہلے تک دیکھا کرتی تھی کہ گرمیوں میں غسل کر کے نکلے اور اپنا ایک بنیان اور رو مال خود دھویا ہوا ہاتھ میں پکڑا ہوتا تھا۔نوکر کو آواز دیکر کہتے اس کو باہر دھوپ میں ڈال آؤ۔اصحاب احمد جلد دوازدهم صفحه (۱۹۲)