قندیلیں

by Other Authors

Page 104 of 194

قندیلیں — Page 104

۱۰۴ رب العالمین سے دُعا حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی فرماتے ہیں کہ دو چار دن سمندری سفر میں گزارنے کے بعد جب ساحل مالا بار ایک دو میل رہ گیا تو جہاز کے کپتان کی طرف سے حکم ملا کہ سب مسافر جہاز سے اتر کر کشتیوں میں سوار ہوں اور ساحل پر پہنچیں۔چنانچہ ایک کشتی پر ہم سوار ہوئے۔جب ہم ساحل سے نصف میل کے قریب پہنچے تو اچانک سمندر میں طوفان آگیا اور ہماری کشتی ڈگمگانے لگی۔اس ہولناک منظر سے ملاح بھی خوفزدہ ہو گئے اور چلانے لگے اور زور زور سے " یا پیر بخاری" یا پیر عبد القادر جیلانی یا پیر حضور کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔دیکھتے ہی دیکھتے کشتی میں پانی بھرنے لگا۔اور سب سواریوں کی موت سر پر منڈلاتی ہوئی نظر آنے لگی۔میری طبیعت کمیٹی سے ہی اعصابی دردوں کی وجہ سے خراب تھی۔اور اس وقت بھی دورہ تھا۔لیکن جب میں نے ملاحوں کی مشترکہ صدائیں سنیں۔اور ادھر کشتی کی حالت کو دیکھا تو میرا قلب غیرت سے بھر گیا اور میں اسی ہوش میں کھڑا ہو گیا اور ملاحوں سے کہا کہ تم لوگ شرک کے کلمات کہہ کر اپنی تباہی اور بھی زیادہ قریب کر رہے ہو۔تم ان نازک حالات میں ایسے مشرکانہ کلمات سے تو یہ کرو اور صرف اللہ تعالیٰ کی جناب سے استمداد کرو۔پیر بخاری کون ہے اور پیر خضر اور پیر عبد القادر جیلانی کیا ہیں ؟ہ یہ سب اس لاشریک اور قدوس خُدا کے عاجز بندے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا بندوں سے منت مانگنے کی بجائے رب العالمین خدا سے مدد طلب کرو جس نے ان پیروں اور بزرگوں کو پیدا کیا اور ان کو بزرگی کی اور یہ سمندر کیا ہے میرے قادر