قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 82
قدرت ثانیہ کا دور اوّل واقف ہے۔میرے حقیقی مالک میرے مولا! تجھے علم ہے کہ تیری رضا حاصل کرنے کے لئے اور تیرے دین کی خدمت کے ارادہ سے یہ کام میں نے شروع کیا ہے۔تیرے پاک رسول کے نام کو بلند کرنے اور تیرے مامور کی سچائیوں کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے یہ ہمت میں نے کی ہے تو میرے ارادوں کا واقف ہے میری پوشیدہ باتوں کا راز دار ہے۔میں تجھی سے اور تیرے ہی پیارے چہرے کا واسطہ دے کر نصرت و مدد کا اُمیدوار ہوں۔“ الفضل کو نہ صرف لمبے عرصہ سے جماعت کی بیش قیمت خدمت کرنے کا فخر حاصل ہے۔بلکہ اس کو یہ فخر بھی حاصل ہے۔کہ یہ پرچہ یکے بعد دیگرے حضرت مسیح موعود کے دو موعود فرزندوں کی زیر نگرانی پروان چڑھا۔یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد کے خدائی تقدیر اور منشاء کے مطابق خلیفہ مقرر ہونے پر اس اخبار کی ادارت قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد کے سپرد ہوئی اور آپ 25 مارچ 1914 ء سے 27 اگست 1914 ء تک اس اخبار کے نگران وایڈیٹر رہے۔اس اخبار کی اشاعت پر جملہ احمدی احباب بہت خوش ہوئے۔حتی کہ پیغام صلح نے بھی اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے لکھا: الفضل من ترا حاجی بگویم کے اصول پر نہیں بلکہ اس لحاظ سے مندرجہ عنوان نام جدید اخبار فی الواقعہ ایک ہونہار ہمعصر اور نیز اس لئے کہ ہمارے امام حضرت مسیح موعود کے فرزند رشید میاں محمود احمد صاحب سلمہ اللہ کی ایڈیٹری میں جاری ہوا ہے پھر اس وجہ سے کہ ایک دوسرے پر معاصرانہ ہمدردی و بہی خواہی کا حق ہے۔ہم الفضل قادیان کا بڑی خوشی سے خیر مقدم کرتے ہیں۔خدا اسے بارآور کرے۔مختصر لفظوں میں اس کا مقصد دین و ملت اسلام کی خدمت ہے۔چار نمبر بڑی محنت و قابلیت سے مرتب ہو کر نکل (پیغام صلح 12 جولائی 1913 ء ) چکے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ پیغام کا مندرجہ بالا نوٹ کسی مقبولیت کے وقت لکھا گیا تھا کیونکہ اخبار (82)