قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 83
قدرت ثانیہ کا دور اوّل الفضل اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوب بار آور ہوا اور آج تمام دنیا میں پڑھا جانے کے لحاظ سے دنیا بھر کے اخباروں میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔10 - اخبار پیغام ملح 1913ء میں لاہور سے پیغام صلح، سوسائٹی احمد یہ بلڈنگس نولکھا لا ہور کی طرف سے ایک اخبار پیغام صلح کے نام سے جاری ہوا۔مشہور اہل قلم اور تجربہ کار اخبارنویس ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی اس کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔اشاعت کے وقت اس خبار کے اغراض و مقاصد امن کا قیام اور اعلائے کلمہ حق ہی تھا۔مگر افسوس ہے کہ اس اخبار نے ایسا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے یہ جماعت میں اختلاف کا موجب ہوا۔اور خود حضرت خلیفہ اسیح اول نے اس کی اس پالیسی پر اظہار افسوس فرماتے ہوئے اسے بجاطور پر پیغام جنگ کا نام دیا اور اسے پڑھنا ترک کردیا اور حضرت خلیفتہ المسیح اول کی وفات کے بعد تو اسے صدر انجمن سے کسی قسم کا تعلق نہ رہا اور یہ مخصوص خیالات کے ایک طبقہ یعنی غیر مبائعین کا مرکزی آرگن ہو گیا۔Muslim India And Islamic Review۔11 خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی نے 1913ء میں لندن سے ایک انگریزی رسالہ جاری کیا جس میں احمدیت کے ذکر سے اجتناب کیا جا تا تھا اور کوشش کی جاتی تھی کہ عام اسلامی عقائد کے متعلق لکھ کر مسلمانوں سے مالی امداد حاصل کی جائے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ اخبار بدر خلافت اولیٰ کے آخری ایام میں بند ہو چکا تھا اس لئے آخر خلافت اولیٰ میں اخبارات و رسائل کی تعداد دس تھی ہندوستان کی اس وقت کی تعلیمی حالت اور خاص طور پر جماعت احمدیہ کی تعلیمی و اقتصادی حالت کے پیش نظر یہ تعداد بہت زیادہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح اول کی خلافت کے آخری سال مجلس معتمدین صدر انجمن (83)