قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 60
قدرت ثانیہ کا دور اوّل قرآن مجید کے اس درس سے فارغ ہوتے ہی اذانِ ظہر ہوتی ہے۔نماز سے فارغ ہو کر ایک وسیع حلقہ درس بخاری کا ہوتا ہے۔اور یہ سلسلہ عصر تک جاری رہتا ہے۔عصر سے فارغ ہوتے ہی کوئی اخبار عربی یا کوئی اور ہاتھ میں آگیا تو پڑھا۔بڑی مسجد میں ایک عام درس قرآن مجید کے ایک رکوع کا ہوتا ہے۔۔۔قرآن مجید کا یہ درس مغرب تک ہی رہتا ہے اور نماز مغرب کے بعد قرآن مجید کا ایک درس لڑکوں کو دیتے ہیں۔کیونکہ عبدالمی اپنے بچے کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں۔یہ درس بھی بہت وسعت سے ہوتا ہے۔پھر ایک اور درس قرآن مجید کا ہی ہوتا ہے۔یہ درس فارغ التحصیل لوگوں کے لئے ہوتا ہے۔“ (الحام 14 فروری 1912 ء ) قرآنی معارف کے اس قلزم بیکراں کو حیطہ تحریر میں لا نا قریباً ناممکن تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے درسوں کے مختلف مختصر نوٹ تو تالیف کئے گئے ہیں۔لیکن آپ کی مفصل و مرتب تفسیر قرآن شائع نہیں ہو سکی۔البتہ بعض سورتوں کی یا بعض رکوعوں کی تفسیر اس زمانہ کے اخباروں میں شائع ہوتی رہی جس کے پڑھنے سے تبحر علمی عظیم الشان قرآن فہمی اور عشق قرآن کا اندازہ ہوتا ہے۔مثلاً سورۃ جمعہ کی تفسیر میں آپ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس التزام اور اہتمام ( سورۃ جمعہ کی اشاعت) پر نظر کر کے اس سورۃ پر خاص غور کیا ہے۔یوں تو قرآن میری غذا اور میری تسلی اور اطمینان کا سچا ذریعہ ہے۔اور میں جب تک ہر روز اس کو مختلف رنگوں میں پڑھ نہیں لیتا۔مجھے آرام اور چین نہیں آتا۔بچپن ہی سے میری طبیعت خدا تعالیٰ نے قرآن شریف پر تزیر کرنے والی رکھی ہے اور میں ہمیشہ دیر دیر تک قرآن شریف کے عجائبات اور بلند پروازیوں پر غور کیا کرتا ہوں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس قدر اہتمام اس کی تبلیغ کا کیا ہے اُس نے مجھے اس سورہ شریف پر بہت ہی زیادہ غور وفکر کرنے کی طرف (60)