قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 59
قدرت ثانیہ کا دور اوّل اب میں جماعت احمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تحمل و برد باری و عاقبت اندیشی اور تقویٰ و طہارت سے کام لیں اور دعاؤں میں لگے رہیں۔ابتدا دشمن سے مقابلہ نہ کریں کیونکہ اسلام دفاعی مقابلہ کی اجازت دیتا ہے۔پس جب دشمن مخالفانہ بات کرے تو اس وقت جناب الہی میں تضرع سے دعا کر کے جواب دیں اور یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد تمہارے لئے تائیدی راہیں کھولنے والا ہے۔“ ( وفات مسیح موعود صفحہ 24) 10 - درس قرآن مجید - حقائق الفرقان قرآن مجید کی تلاوت، اس کی اشاعت تبلیغ آپ کی روح کی غذا تھی۔اس غرض کے لئے آپ نے دن کے مختلف حصوں میں قرآن مجید کے کئی درس جاری کئے ہوئے تھے۔بچوں میں،طالب علموں میں ، جوانوں میں ، بوڑھوں میں ، عورتوں میں غرضیکہ ہرین اور ہر صنف کے لوگ اس سے فیض یاب ہوتے تھے۔چنانچہ آپ کی زندگی کے آخری ایام کا خا کہ بیان کرتے ہوئے مؤقر اخبار الحکم رقم طراز ہے: صبح ہی آپ چھوٹی لڑکیوں کو قرآن کریم کا درس دیتے تھے یہ درس ان کی استعداد اور سمجھ کو مد نظر رکھ کر دیا جاتا ہے۔اور آپ روزانہ سبق سن کر پھر پڑھاتے ہیں۔پھر مستورات کو سبق دیتے ہیں قرآن مجید کے درس کے بعد پھر عورتوں میں اچھی استعداد کی بیبیاں بخاری پڑھتی ہیں۔اس سے فارغ ہو کر مستورات اور بچوں کے علاج کی طرف توجہ ہوتی ہے۔اور گھر ہی میں ان کو طبی مشورے دیتے ہیں۔وہاں سے فارغ ہو کر باہر تشریف لاتے ہیں۔اور مریضوں کو دیکھتے ہیں۔یہ سلسلہ بارہ بجے تک جاری رہتا ہے۔پھر طب پڑھنے والوں کو طبی درس دیتے ہیں طب کے درس میں ہی ڈاک کے خطوط پیش ہو جاتے ہیں۔اور ان کے جوابات بھی دیے جاتے ہیں۔اس درس سے فارغ ہو کر آپ کھانا کھانے بیٹھتے ہیں۔کھانا کھانے کے وقت پھر درس قرآن کریم کا ہوتا ہے۔چند نو جوان قرآن مجید کا ترجمہ آپ سے پڑھتے ہیں۔(59)