قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 138
مقدرت ثانیہ کا دور اول موت العالم موت العالم ہنوز سیر ندیدم جمال نورالدین که شد ز گردش کیتی وصال نورالدین تاریخ احمدیت میں 1914ء ایک یادگار تاریخی سال ہے کیونکہ اس میں قدرت ثانیہ کے مظہر اول اپنی اٹھہتر (78) سالہ کامیاب و با مراد زندگی گزار کر اپنے مالک حقیقی و خالق ہر دو جہاں سے جاملے۔اور جماعت خلافت ثانیہ کے دور میں داخل ہوئی۔حضرت صاحب 18 نومبر 1910ء کو قریباً ساڑھے چار بجے حضرت قاضی امیرحسین صاحب کے مکانات کے سامنے گھوڑی سے گر پڑے اور آپ کی پیشانی پر گہرا زخم آیا۔اس طرح حضرت اقدس مسیح موعود کا کشف پورا ہوا کہ مولوی نور الدین صاحب گھوڑے پر سوار ہوئے ہیں اور گر گئے ہیں۔( تذکرہ ص 671 ) اخبار الحکم نے اس حادثہ کی تفصیل اس طرح لکھی ہے : 18 نومبر 1910ء کو بعد نماز جمعہ حضرت خلیفتہ اسیح گھوڑے پر سوار ہو کر نواب صاحب (حضرت محمد علی خان صاحب ( کی کوٹھی پر تشریف لے گئے نواب صاحب 17 نومبر کو قادیان آئے تھے۔۔۔۔واپسی پر گھوڑی نہایت تیزی اور بے خودی سے آرہی تھی ملک مولا بخش صاحب رئیس گورالی بیان کرتے ہیں کہ گھوڑی ایسی تیز اور بے خود تھی اور حضرت خلیفہ مسیح ایسی قوت اور اطمینان کے ساتھ اس پر بیٹھے تھے کہ میرے وہم گمان میں بھی نہ آ سکتا تھا۔میں نے بڑے سے بڑے سوار دیکھے ہیں مگر حضرت کی شان اس وقت نرالی تھی آخر گھوڑی ایک تنگ کوچہ سے ہوکر گزری اور حضرت زمین پر آ رہے اور پیشانی پر سخت چوٹ آئی۔۔۔بالآخر ڈاکٹر بشارت احمد صاحب اور ڈاکٹر الہی بخش صاحب اور ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب نے زخموں کو درست کیا اور بدوں کلوروفارم کے عمل کے زخم کوسی دیا گیا حضرت کی عمر باوجودیکہ 80 سال کے قریب ہے (138)