قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 139
قدرت ثانیہ کا دور اول لیکن دیکھنے والے دیکھتے تھے کہ زخم کے سئے جانے کے وقت آپ کے چہرہ یا بدن کے کسی حصہ میں کوئی شکن تک نہیں پڑا۔استقلال اور ضبط نفس کا ایسا نمونہ تھا کہ وہ کامل (الحکم 28 نومبر 1910 ) ایمان کے بدوں ناممکن ہے۔“ باوجود اس قدر تکلیف کے تحمل و بردباری حسب معمول تھی چنانچہ اس حادثہ کی خبر ملتے ہی قادیان کے مردوزن اکھٹے ہو گئے تو آپ نے عورتوں کو پیغام بھجوایا کہ۔میں اچھا ہوں۔میں گھبراتا نہیں۔اور نہ میرا دل ڈرتا ہے وہ سب اپنے گھروں کو چلی جائیں اپنا نام لکھوادیں میں ان کے لئے دعا کروں گا۔“ ( الحکم 28 نومبر 1910ء) اپنی تکلیف دہ بیماری کے ابتدائی دنوں میں آپ نے احتیاط اور دُور اندیشی کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”میرے حواس اس وقت درست ہیں اور موت کا کوئی وقت معلوم نہیں میں چاہتا ہوں تمہارے لئے ایک وصیت لکھ دوں تم آپس میں مشورہ کرلو۔۔۔(الحکم 28 نومبر 1910ء) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اختلافات اور فتنہ کی دبی ہوئی چنگاریاں نظر آ رہی تھیں اور آپ اس کوشش میں تھے کہ ان کو ہمیشہ کے لئے ٹھنڈا کر دیا جائے اور اس کے لئے آپ نے اپنی زندگی بھر کی کوششوں کے علاوہ اس شدید بیماری میں بھی مسلسل جدو جہد جاری رکھی چنانچہ 27 دسمبر 1910ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر تمام انجمن ہائے احمدیہ کے عہد یداروں سے خطاب فرماتے ہوئے مندرجہ ذیل اہم نصیحتیں کیں : 1 جھگڑے نہ کرو۔2 صبر سے کام لو 3 اپنی ذاتی کمائی سے صدقہ خیرات دو 4۔یہاں کے لوگ جن کے قبضہ میں روپیہ آتا ہے ان پر بدگمانی نہ کرو اور فرمایا کہ یہ باتیں (139)