قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 123
قدرت ثانیہ کا دور اوّل محسوس ہوئی کہ اس کی توسیع کی جائے چنانچہ 1910ء کے ابتدائی ایام میں پرانی عمارت کے جنوب میں پہلے کمرے کے برابر چوڑا 64 فٹ لمبا اور اس کے سامنے قریباً 80 فٹ لمبا برآمدہ تیار کیا گیا جس سے مسجد پہلے سے قریبا دگنی ہوگئی۔اللہ کی شان ہے اس مسجد کی تعمیر کے وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتا تھا کہ یہ مسجد نمازیوں سے بھری رہے گی بلکہ بظاہر حالات معلوم ہوتا تھا کہ باقی مساجد کی طرح یہ بھی ویران ہی رہے گی۔لیکن بانی مسجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی خلوص نیت کو اللہ تعالیٰ نے ایسا نوازا کہ تھوڑے ہی عرصہ بعد اس کی توسیع کی ضرورت پیدا ہو گئی۔اس توسیع کے متعلق اخبار الحکم“ نے لکھا کہ: (مسجد) جامع کی توسیع نے (مسجد) کی شان کو دوبالا کر دیا ہے نہایت شاندار کمرہ جنوبی پہلو میں تیار ہو گیا ہے۔جلسہ پر آنے والے احباب (مسجد) کی اس شان کو دیکھ کر انشاء اللہ ضرور محفوظ ہوں گے۔(مسجد ) کی ترقی سلسلہ کی ترقی کی ایک خوشگوار نسیم ہے اور میں تو دیکھتا ہوں کہ جمعہ میں مسجد جامع میں اور دوسری نمازوں میں مسجد مبارک میں جگہ نہیں ملتی مسجد مبارک اپنی توسیع کی ضروریات زبان حال سے بیان کر رہی ہے۔اللهم زدفرد۔(الحکم 7 فروری 910ء) ||- مسې دنور قادیان کے بیرونی محلوں میں دن بدن بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے محلہ دار العلوم میں ایک مسجد کی ضرورت پیدا ہوئی۔جس کو پورا کرنے کے لئے حضرت خلیفہ اول نے اس مسجد کی بنیادی اینٹ 5 مارچ 1910 کو ایک لمبی دُعا کے بعد رکھی اور بظاہر مخالف حالات میں جبکہ سرمایہ کی فراہمی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی بتوکل علی اللہ اس کام کو شروع کر دیا گیا۔خدا تعالیٰ نے بھی اپنے متوکل بندہ کی حوصلہ افزائی کے لئے غیر معمولی طور پر سرمایہ کا انتظام کر دیا چنانچہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کے دل میں خدا تعالیٰ نے اس کام کے لئے خاص جوش بھر دیا اور آپ نے باوجود بڑھاپے کے وہ بدہ اور قریہ بقریہ پھر کر اس بابرکت کام کے لئے چندہ اکٹھا کیا (123)