قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 16 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 16

قدرت ثانیہ کا دور اوّل نے آپ سے رجوع کیا اور آپ کے کامیاب اور زوداثر علاج نے آپ کو یہ عظیم الشان فائدہ پہنچایا کہ امیر زادہ نے خوش ہو کر اتنا انعام دیا کہ آپ پر حج فرض ہو گیا۔حج کا قصد کرنا تھا کہ انہی دنوں آپ کو شدید بخار اور سیلان اللعاب کا خطرناک عارضہ ہو گیا اس مرض کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اطباء نے مشورہ دیا کہ آپ فوراً اپنے وطن چلے جائیں لیکن معمولی علاج سے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے شفا دے دی اور بجائے وطن جانے کے آپ نے حرمین شریف جانے کا ارادہ کر لیا۔آپ نے اپنے زمانہ طالب علمی کے تجارب کا نچوڑ اس طرح بیان فرمایا کہ: اگر ہندوستان کے مسلمان تعلیمی درسی کتابیں سوچ سمجھ کر مقر رکیا کریں اور پھر ان کے امتحان بھی ہوا کریں اور اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ طالبعلم دین و دنیا دونوں میں ترقی کر سکیں تو قوم پر کتنا بڑا احسان ہو۔الگ الگ درسگا ہیں بڑی دقت میں ڈالتی ہیں سب سے بڑی دقت جو مجھ کو محسوس ہوئی یہ ہے کہ نہ تو استاد صلاح دیتے ہیں کہ کیا پڑھنا چاہیے اور نہ طالب علم اپنے حسب منشاء آزادی کے ساتھ اپنے ان قومی کے متعلق جو خدا تعالیٰ نے عطا کئے ہیں کسی کتاب کے انتخاب کرنے کی جرات کر سکتا ہے۔نیز اخلاق فاضلہ کی تعلیم و تاکید نہیں ہوتی۔میں اپنی تحقیق سے کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں کسی استاد میں یہ بات نہ دیکھی۔ان باتوں کا رنج مجھے اب تک ہے۔کس قدر رنج ہوتا ہے جبکہ میں غور کرتا ہوں کہ اس وقت ہمارے افعال ، اقوال ، عادات، اخلاق پر بھی ہمارے معلموں میں سے کسی نے نوٹس نہ لیا۔بلکہ عقائد کے متعلق بھی کچھ نہ کہا۔مجھے تو یہ بھی یاد نہیں کہ مشکوۃ میں ہی ہمارے اخلاق پر توجہ دلائی گئی ہو۔(مرقاۃ الیقین صفحہ 61) ہندوستان کے مایہ ناز اور چوٹی کے علماء سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ اپنے دل میں فریضہ حج کی ادائیگی ، زیارت مقامات مقدسہ اور تحصیل علم کے ولولوں سے سرشار 1866-1865 میں حرمین شریف کا سفر کیا۔مکہ معظمہ میں آپ نے چیدہ چیدہ علماء سے کما حقہ استفادہ کیا۔چنانچہ شیخ محمد خزرجی (16)