قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 144 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 144

قدرت ثانیہ کا دور اوّل آپ کی زندگی کا آخری اور عظیم الشان کارنامہ استحکام خلافت ہے۔آپ نے ایام خلافت میں سب سے زیادہ توجہ اسی امر کی طرف مبذول فرمائی۔چنانچہ آپ نے خلافت کو بار بار آیت استخلاف کے مطابق قرار دیا۔خلافت کے منکروں اور فتنہ پردازوں کو فاسق کہا۔اور اپنی خلافت کو الوصیت کے عین مطابق قرار دیا اور خلافت راشدہ کے مشابہ قرار دیا نیز اپنی آخری وصیت میں ” خلیفہ“ کے متعلق واضح ارشادات فرمائے۔غرضیکہ زندگی بھر خلافت کے ثبات و استحکام میں کوشاں رہے اور جماعت کو اس مقام پر لے گئے کہ اس میں نظام خلافت اتنا مضبوط ومستحکم ہو گیا کہ اسے شک وشبہ کی آندھیوں سے کوئی خطرہ نہیں اور خلافت و جماعت احمد یہ لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔( آپ کی وفات پر جو چند لوگ نظام خلافت سے ذاتی عناد و بغض کی وجہ سے الگ ہوئے وہ خودبھی خلافت کو لومیت کے مطابق قرار دے کر تسلیم کر چکے تھے) حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کی وصیت آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں اور یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اعتصام حبل اللہ کے ساتھ ہو۔قرآن تمہارا دستور العمل ہو۔باہم کوئی تنازع نہ ہو۔۔۔۔چاہئے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میت غسال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسا وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر استغفار کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو وحدت کو ہاتھ سے نہ دو دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کو تا ہی نہ کرو تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا پس اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ شکر کرنے پر از دیار نعمت ہوتا ہے۔“ (خطبات نور 131 ) اے خدا! جماعت احمد یہ ہمیشہ خلافت کے انعام سے متمتع رہے کیونکہ امام کی برکت سے ہی جماعت بنتی ہے اتحاد قائم ہوتا ہے اور خدائی تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے۔آمین الھم آمین۔(144)