قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 143 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 143

درت ثانیہ کا دو راول حرف آخر تاریخی اعتبار سے خلافت اُولیٰ کا جستہ جستہ جائزہ لیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء اور خلفاء کے زمانوں کی جامع و مانع تاریخ مرتب کرنا کسی مورخ کے بس کی بات نہیں ہے۔خدا کے ان مقربین کے عہد میں ملائکہ کی تائید سے واقعات کا پے در پے ایسا ہجوم ہوتا ہے۔اور بیک وقت اتنے مفید، دور رس اور نتیجہ خیز واقعات ہورہے ہوتے ہیں کہ ایک ظاہر بین مورخ ان کی اہمیت کا اندازہ لگا ہی نہیں سکتا حقیقت میں وہ واقعات ان انقلابات عظیمہ کا پیش خیمہ ہوتے ہیں جو روحانی تحریکوں کے عروج کے وقت رونما ہونے والے ہوتے ہیں۔خلافت اولی کو ہی لیجئے یہ چھ سالہ مبارک اور شاندار دور ایسے متعد عظیم الشان واقعات کا حامل ہے۔جن کی چند مثالیں آپ گزشتہ اوراق میں دیکھ چکے ہیں۔لیکن بحیثیت مجموعی اس زمانہ پر نظر ڈالئے تو آپ کو تین نمایاں اور ممتاز محور نظر آئیں گے جن کے ارد گر د باقی تمام واقعات گھومتے ہیں۔یعنی 1 - خدمت قرآن مجید 2 تربیت جماعت _3 استحکام خلافت خلافت کے ابتدائی دور میں جماعت میں بہترین منتظم وہی بزرگ ثابت ہوئے جنہوں نے آپ کے دامن تربیت سے فیض حاصل کیا۔آپ نے ایک ایسی ٹیم تیار کی جو برابر اخلاص محبت ، جوش جذ بہ عزم اور استقلال سے اپنے فرائض منصبی کما حقہ ادا کرتے رہے۔یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے جو ازل سے مقربین خدا کے ساتھ ہی مخصوص ہے چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی، حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب، حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ، حضرت قاضی امیر حسین صاحب، حضرت مولوی محمد دین صاحب ، حضرت مولوی محمد سرور صاحب ، حضرت ملک غلام فرید صاحب ، حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب (اللہ ان سب سے راضی ہو ) جیسے بزرگوں کو سلسلہ کا جو کام بھی تفویض ہوا انہوں نے اس میں اپنی خداداد قابلیتوں سے نمایاں کامیابی حاصل کی۔(143)