قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 99
مقدرت ثانیہ کا دو راؤل 2- حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفہ اسیح الثانی ) کا سفر حج حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں دعوت الی اللہ کے مواقع کے حصول میں سے ایک اہم واقعہ حضرت صاحبزادہ صاحب کا سفر حج ہے کیونکہ اس سفر سے احمدیت کا تعارف قریب تمام بلا داسلامیہ میں ہو گیا۔آپ 1912ء کے آخر میں حضرت اماں جان اور حضرت خلیفہ اول کی اجازت و منشاء سے مصر کے سفر کے لئے روانہ ہوئے۔مجوزہ پروگرام کے مطابق یکم اکتوبر کو آپ نے بمبئی سے سوار ہونا تھا لیکن مسافروں کی کثرت کی وجہ سے آپ کیکم اکتوبر کو جہاز پر سوار نہ ہو سکے بلکہ 16اکتوبرکو بمشکل جہاز پر جگہ مل سکی۔دیار حبیب کے قرب اور موسم حج کی آمد نے آپ کو سفر مصر کے خیال سے ہٹا کر حج کے لئے آمادہ کر دیا۔چنانچہ 7 نومبر 1912ء کو آپ مکہ مکرمہ پہنچے اس مبارک سفر میں آپ کے ہمراہ حضرت میر ناصر نواب صاحب اور مکرم عبدالحی صاحب عرب تھے۔زیارت مقامات مقدسہ اور فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد آپ 25 دسمبر 12ء کو "منصورہ “ نامی جہاز پر سوار ہو کر 6 جنوری 1913ء کو شام کے وقت بمبئی تشریف لائے جہاں آپ کے استقبال کے لئے حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی پہلے سے بصد اشتیاق موجود تھے۔10 جنوری کو آپ بمبئی سے سوار ہو کر 12 جنوری کو لاہور پہنچے اس جگہ بھی آپ کے استقبال کے لئے حضرت محمود احمد عرفانی، حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور شیخ عبد الرحمان صاحب قادیان سے آئے ہوئے تھے۔حضرت اماں جان آپ کے استقبال کے لئے بٹالہ تک تشریف لے گئیں۔13 تاریخ کی صبح اپنے اندرشان اور عظمت لئے ہوئے طلوع ہوئی۔حضرت خلیفہ اول کی خوشی و مسرت آپ کے چہرہ اور بات چیت بلکہ ہر حرکت سے نمایاں ہوتی تھی۔اُسی خوشی میں آپ نے قادیان کے تمام سکولوں میں تعطیل کر دی اور باوجود ضعف اور کمزوری اور زیادہ چلنے پھرنے کی عادت نہ ہونے کے آپ اس عظیم الشان حاجی کے استقبال کے لئے قریباً نہر تک تشریف لے (99)