قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 100
قدرت ثانیہ کا دور اول گئے ( قادیان سے قریباً 3 میل ) آپ کے ہمراہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور قادیان کی اکثر آبادی بھی استقبال کے لئے قادیان سے باہر گئی۔آپ کا یہ سفر دعوت الی اللہ کا ایک عمدہ موقع ثابت ہوا کیونکہ قریباً ہر جگہ آپ نے دعوت الی اللہ کا حق ادا کیا۔14 جنوری کو گیارہ بجے کے قریب "مدرسہ احمدیہ کی طرف سے آپ کے اعزاز میں ایک شاندار استقبالیہ دعوت ترتیب دی گئی۔-3- ترجمه قرآن مجید حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں خدمت قرآن نمایاں نظر آتی ہے۔چنانچہ آپ بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ قرآن مجید میری روح کی غذا اور اطمینان و تسلی کا موجب ہے۔اور ایک موقع پر آپ نے فرمایا۔(میری) سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ قرآن مجید عملی طور پر کل دنیا کا دستور العمل ہو اور اپنی اولاد کے لئے جو خواہش ہے وہ اس سے باہر نہیں جاتی کہ قرآن شریف کا فہم، اس پر عمل، اس کی خدمت ہو۔“ (الحکم 7-14 جولائی 1911ء) اور آپ نے اپنی ساری زندگی اس خواہش کی تکمیل میں صرف کر دی اور جماعت میں قرآن مجید کی تلاوت و ترجمہ کا شوق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ علمی طبقہ میں روح پر ور تفسیر قرآن بیان فرمائی اور انگریزی دان اصحاب کے لئے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ کروادیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آپ نے حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب کو قرآن مجید کا اردو تر جمہ وتفسیر لکھنے پر مامور فرمایا۔مولوی صاحب موصوف نے پانچ پاروں کی تفسیر کر کے اس عظیم کام کی بنیاد رکھ دی۔اس کے علاوہ آپ نے انگریزی ترجمہ قرآن کا حیرت انگیز کارنامہ سرانجام دیا کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان یعنی انگریزی میں ترجمہ کا مطلب تمام دنیا کو قرآن کریم کی حقانیت وصداقت سے آگاہ کرنا تھا۔(100)