قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 90 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 90

تدرت ثانیہ کا دور اول ہندوستان میں بھی دعوت الی اللہ کا کام پورے انہماک اور جوش سے ہورہا تھا احمدی اخبارات و رسائل جن کی تفصیل دوسری جگہ درج ہے نہایت عمدگی اور خوش اسلوبی سے یہ فرض ادا کر رہے تھے مکرم میر قاسم علی صاحب احمدی اور الحق کی ادارت کے ساتھ ساتھ آریہ سماج کے خیالات فاسدہ کے بطلان کے لئے ایک انجمن بنام دیا ندمت کھنڈن سجھا پایہ تخت ہندوستان میں قائم کئے ہوئے تھے۔اور تمام بڑے بڑے شہروں میں بحث مباحثہ کا بازار گرم تھا حضرت خلیفتہ المسیح اول اس امر کی نگرانی فرماتے تھے اور جہاں ضرورت ہوتی مرکز سے علماء بھجوائے جاتے مثلاً دسمبر 1909ء کولاہور میں آریہ سماج نے اپنا سالانہ جلسہ کیا اس جلسہ کے بعد عیسائیوں نے بھی لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور ان میں اسلام پر بھی اعتراضات کئے حضرت خلیفہ اول نے یہ اطلاع ملتے ہی ایک اعلان شائع کروایا کہ ان لیکچروں کے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے 29 دسمبر سے یکم جنوری تک لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے گا۔چنانچہ پروگرام کے مطابق احمد یہ بلڈنگس لاہور میں مذکورہ بالا لیکچر کامیابی کے ساتھ ہوئے۔اشاعت دین کو وسیع تر کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے پمفلٹ بھی مفت تقسیم کئے جاتے یہ شاندار کام لدھیانہ کے ایک مخلص احمدی کی تحریک پر جاری ہوا جنہوں نے خود اس مد میں 1000 رو پید یا اور صدر انجمن کی نگرانی میں یہ مفید سلسلہ چلتا رہا۔خلافت اولیٰ میں مشرقی بنگال کے ایک مشہور عالم سید عبدالواحد صاحب ( برہمن بڑیہ ) قادیان تشریف لائے اور حضرت خلیفہ اسیح اول کے دست مبارک پر بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوئے۔بنگال سے قادیان آتے ہوئے آپ نے رستہ میں ہندوستان بھر کے ممتاز علماء سے احمدیت کے متعلق تبادلہ خیال کیا لیکن آپ کے سوالوں کا کوئی عالم بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔خصوصاً وفات مسیح کے مسئلہ پر آپ نے تمام مشاہیر علماء کو بالکل ساکت وصامت کر دیا ( آپ کے یہ دلچسپ حالات ایک الگ رسالے میں شائع شدہ موجود ہیں ) آپ کی وجاہت علمیت اور اثر کی وجہ سے بنگال کے سینکڑوں افراد احمدیت میں داخل ہوئے۔(90)