قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 85
قدرت ثانیہ کا دور اول خلافت اُولیٰ اور دعوت الی اللہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت ورہنمائی کے کے لئے ارسال رسل کا طریق جاری فرمایا تا کہ ہر زمانہ میں خدا کا کوئی مقرب بندہ لوگوں کے سامنے نمونہ کی زندگی بسر کرے اور خدا تعالیٰ کے کلام سے رہنمائی حاصل کر کے لوگوں کی روحانی ضروریات کو پورا کرے یعنی خدا شناسی کے وسائل سے آگاہ کرے جس کے مطابق لوگ اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔ابتدا میں انبیاء ایک ایک قوم یا علاقہ کی طرف بھیجے جاتے تھے کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر بیک وقت پیغام حق پہنچانا ممکن نہ تھا تا آنکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور آپ کو یہ امتیاز بخشا گیا کہ آپ تمام دنیا کو ہدایت کی طرف بلائیں اور بلا استثناء ہر قوم اور ملک کے لوگوں کو خدائے قدوس کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی طرف بلائیں۔چنانچہ آپ نے سرزمین عرب میں تبلیغ اسلام کر کے ہر طرح حجت تمام کر دی اور ساتھ ہی ساتھ ممالک عجم کو بھی خطوط اور قاصدوں کے ذریعہ پیغام حق پہنچایا۔اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے متبعین نے نہ صرف اس کام کو برابر جاری رکھا بلکہ اس حیرت انگیز طور پر ترقی کی کہ ایک نہایت قلیل مدت میں دنیا کی ہر قابل ذکر قوم تک پیغام پہنچا دیا۔تجدید دین کے اس دور میں حضرت مسیح موعود کو بھی خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ساری دنیا کی ہدایت ورہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا تو آپ نے بھی اپنی قوم و ملک پر ہر طرح حجت قائم کر دی اور ساتھ ہی ساتھ اشتہاروں اور خطوط کے ذریعہ ممالک غیر میں بھی اشاعت دین حق کے مقدس فریضہ کی ادائیگی میں زندگی بھر برابر کوشاں ہے۔لندن مشن ہاؤس کا باقاعدہ افتتاح تو مکرم فتح محمد صاحب سیال نے کیا لیکن ابتد أخواجہ کمال الدین صاحب بمبئی کے کسی احمدی رئیس کے مقدمہ کے سلسلہ میں 7 ستمبر 1912ء کولندن تشریف لے گئے ( آئینہ صداقت ص 152 )۔ہاں جیسے ہر احمدی ہمیشہ تبلیغ کرنا ضروری سمجھتا ہے خواجہ (85)