قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 86 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 86

قدرت ثانیہ کا دور اوّل صاحب نے بھی اپنے کام کے ساتھ ساتھ دین حق کی تبلیغ کو مدنظر رکھا۔اگر موصوف مومنانہ جرأت و ہمت سے کام لیتے تو آپ کو پہلا بیرونی مبلغ احمدیت ہونے کا قابل رشک مقام حاصل ہوتا لیکن آپ نے حاکم قوم یعنی انگریزوں اور ان کی ظاہری شان و شوکت سے مرعوب ہوکر اسلام کے اصلی خوبصورت اور دیدہ زیب چہرہ کو چھپانے کی اور اسلام کو عیسائیت کے زیادہ سے زیادہ قریب ظاہر کرنے کی کوشش کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر کو تو بالکل ہی فراموش کر دیا۔گویا کہ اصل اور حقیقی اسلام کو چھوڑ کر اسلام کی مسخ شدہ صورت پیش کرنی شروع کی۔لندن میں کچھ عرصہ قیام کے بعد جب آپ کا کام بڑھ گیا تو آپ نے اپنے ایجنٹ شیخ نور احمد صاحب کولندن بلا لیا اور چونکہ آپ تبلیغ کے کام میں خاطر خواہ وقت نہ دے سکتے تھے اس لئے مرکز کو مبلغ بھجوانے کے لئے بھی لکھا ( حقیقت امر جاننے والوں کا خیال ہے کہ خواجہ صاحب مولوی محمد علی صاحب یا مولوی صدر الدین صاحب کو لندن بلانا چاہتے تھے ) چنانچہ شیخ نور احمد صاحب کے ساتھ 28 جون 1913ء کو مکرم الحاج چوہدری فتح محمد صاحب پہلے با قاعدہ مبلغ کی حیثیت سے لندن تشریف لے گئے اور وہاں پہنچ کر تبلیغ احمدیت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔چونکہ خواجہ صاحب کی شہرت و مقبولیت کو ( بزعم خویش ) اس طرح نقصان پہنچے کا اندیشہ تھا اس لئے انہوں نے چوہدری صاحب کو تبلیغ کرنے سے روکا اور کہا کہ میں نے مرکز کو ایک خط لکھا ہے اس کا جواب آنے پر آپ اپنا کام شروع کریں۔اسی دوران میں وہ عظیم الشان صاحب تدبر و حکمت انسان فوت ہو گیا جس کی وفات کا خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کو انتظار تھا۔کیونکہ اس کی زندگی میں ان کو کھل کھیلنے اور من مانی کرنے کا موقع نہ ملتا۔حضرت لیفہ اول کی وفات پر خواجہ صاحب نے مرکز سے قطع تعلق کر لیا اور مکرم چوہدری صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایت کے مطابق اپنا الگ مشن کھول کر خالص اور زندہ دین حق کی تبلیغ شروع کر دی اور خدا کے فضل سے اس وقت لندن میں صرف یہی ایک مشن ہے جو صحیح نظریات پیش کرتا ہے اور برابر ترقی بھی کر رہا ہے۔( خلافت رابعہ سے تو خلیفہ وقت کے یہاں رونق افروز ہونے سے اس مشن کی اہمیت و مرکزیت میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا (86)