قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 79
قدرت ثانیہ کا دور اوّل ضرورت نہیں اور یہ خلاف وصیت حضرت مسیح موعود ہے ان اختلافات کی حقیقت تو اپنے موقع پر بیان ہوگی لیکن یہ بدیہی امر ہے کہ ان باطل عقائد کے خلاف حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفہ اسیح الثانی) نے اپنی روح میں ایک جوش پایا اور آپ اخبار نکالنے پر مستعد ہو گئے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: بدرا اپنی مصلحتوں کی وجہ سے ہمارے لئے بند تھا۔الحکم اول تو ٹمٹماتے چراغ کی طرح کبھی کبھی نکلتا تھا اور جب نکلتا بھی تھا تو اپنے جلال کی وجہ سے لوگوں کی طبیعتوں پر جو اس وقت بہت نازک ہو چکی تھیں بہت گراں گزرتا تھا۔ریو یو ایک بالا ہستی تھی جس کا خیال بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔میں بے مال وزر تھا جان حاضر تھی مگر جو چیز میرے پاس نہ تھی وہ کہاں سے لاتا اس وقت سلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت تھی جو احمدیوں کے دلوں کو گرمائے ان کی سستی کو جھاڑے ان کی محبت کو اُبھارے ان کی ہمتوں کو بلند کرے اور یہ اخبار ثریا کے پاس ایک بلند مقام پر بیٹھا تھا۔اس کی خواہش میرے لئے ایسی ہی رہتی تھی جیسے ثریا کی خواہش نہ وہ ممکن تھی نہ یہ ، آخر دل کی بات رنگ لائی۔امید بر آنے کی صورت نظر آئی۔اور کامیابی کے سورج کی سرخی افق مشرق سے دکھائی دینے لگی۔“ (الفضل 4 جولائی 1924ء) الفضل کا پہلا عظیم الشان معاون الفضل کے لئے سرمایہ کی فراہمی بھی نہایت ہی غیر معمولی طریق سے ہوئی۔اور اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کی تین بزرگ ہستیوں کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ اس قدر مخالف حالات میں 'الفضل کی مدد کر کے ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید ہو جائیں۔اس لئے مناسب ہوگا کہ اس کا ذکر بھی حضور کے الفاظ میں ہی کیا جائے ، فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے میری بیوی (حضرت ام ناصر صاحبہ حرم اوّل حضرت خلیفہ ثانی کے دل میں اس طرح تحریک کی جس طرح حضرت خدیجہ کے دل میں رسول کریم (79)