قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 75
قدرت ثانیہ کا دور اوّل د وثوق اور طمانیت سے کھڑا ہو کر احقاق حق کرتا رہوں۔“ ( الحق 7 جنوری 1910ء) ریویو آف ریلیجنز اردو میں اس رسالہ کی اشاعت کا مندرجہ ذیل الفاظ میں خیر مقدم کیا گیا۔میر صاحب کو مذہبی مناظرات سے بڑی دلچسپی ہے۔اور ان کو خدمت ,, اسلام اور اعلاء کلمہ حق اور ابطال باطل کا بڑا شوق ہے اور یہی امران کے اخبار نکالنے کا بڑا محرک ہوا ہے۔خدا تعالیٰ ان کا ناصر و مددگار ہو اگر چہ اخبار میں زیادہ تر مذہبی مضامین ہیں جو بہت ہی قابلیت سے لکھے گئے ہیں۔مگر میر صاحب نے اخبار کا ایک حصہ عام خبروں کے لئے علیحدہ کر دیا ہے۔اور اس طرح اپنے خریداروں کو عام اخبارات کے خریدنے سے مستغنی کر دیا ہے۔طرز تحریر بہت پاکیزہ ہے۔“ ریویو آف ریلیجنز اردو جنوری 1910ء) حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بھی اس اخبار کو نئے سال کی برکات میں سے قرار دیا۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں : حق پرستوں اور حق کے دلدادوں کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ الحق کا خیر مقدم کریں۔اس لئے میں الحق کا ایک ادنیٰ خادم ہونے کی حیثیت سے اس کا خیر مقدم نہ کروں تو یہ سخت فروگزاشت ہے۔نئے سال کی برکات میں سے الحق کا دہلی سے اجراء ہے۔یہ وہی احق ہے جس کا فاروق کے نام سے اعلان ہوا تھا اور بعد میں حضرت خلیفہ امسیح اول کے ارشادات و ہدایات سے اس کا نام الحق رکھا گیا۔الحق' کے اجراء کا میں ہی محرک و مؤید تھا۔اس لئے سب سے زیادہ خوشی مجھے اس کے اجراء کی ہے۔جس کو میرے محترم بھائی میر قاسم علی مشہور احمدی مناظر نے شائع کیا ہے۔یہ پرچہ نہایت قابل ہاتھوں میں ہے۔“ (احکام 21 جنوری 1910ء) اس جگہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اخبار مذکور کا نام حضرت خلیفہ اسیح الاول نے تجویز فرمایا تھا۔(75)