قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 61
قدرت ثانیہ کا دور اول متوجہ کیا اور میں نے دیکھا ہے کہ اس سورۃ شریف میں قیامت تک کے عجائبات سے آگاہ کیا گیا ہے۔( حقائق الفرقان جلد چہارم ص 82) مختلف مشکل الفاظ کی تشریح کے بعد ضرورت امام ثابت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” جب یہ حالت ہے تو پھر مسلمانوں سے میں خطاب کرتے ہوئے پوچھتا ہوں کہ ليظهره علی الدین کلہ کا وقت کب آئے گا اور اگر علامات و واقعات سے تم استدلال نہیں کرتے تو مجھے اس کا جواب دو کہ مذاہب مختلفہ کا ظہور تو اب ہو چکا۔وہ رسول اس وقت کہاں ہے جس نے اسلام جمیع ملک پر غالب کرنا ہے۔( حقائق الفرقان جلد چہارم ص 111) اس کے بعد حضرت مسیح موعود کو اظہار علی الادیان کرنے والا رسول قرار دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: غرض انسان اسفار سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔جب تک معلم ومز کی موجود نہ ہو۔اگر ساری دانش اور قابلیت کتابوں پر منحصر ہوتی تو میں سچ کہتا ہوں کہ میں سب سے بڑھ کر تجربہ کار ہوتا کیونکہ جس قدر کتابیں میں نے پڑھی ہیں بہت تھوڑے ہوں گے جنہوں نے اس قدر مطالعہ کیا ہو اور بہت تھوڑے ہوں گے جن کے پاس اس قدر ذخیرہ کتب کا ہو گا مگر میں یہ بھی سچ کہتا ہوں کہ وہ ساری کتابیں اور سارا مطالعہ بالکل رائیگاں اور بے فائدہ ہوتا اگر میں امام کے پاس اور اس کی خدمت میں نہ ہوتا۔مجرد کتابوں سے آدمی کیا سیکھ سکتا ہے جب تک مز کی نہ ہو؟ اب میری حالت یہ ہے کہ جب کہ میں نے محض خدا کے فضل سے راستباز کو پایا ہے تو ایک منٹ بھی اس سے دور رہنا نہیں چاہتا۔“ ( حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 114) حضرت خلیفہ اول ( اللہ تعالیٰ آپ پر راضی ہو ) کا درس قریباً اڑھائی سال کی مدت میں مکمل ہو جاتا تھا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے درس شروع ہونے کی تاریخ 19 اپریل 1906 لکھی ہے اور دور مکمل ہونے کی تاریخ 20 جنوری 1909 لکھی ہے۔یہی تاریخیں مکرم اللہ داد صاحب کے نوٹوں پر موجود ہیں اس کے بعد ایک اور دور 22 جنوری 1909 ء سے شروع ہو کر 11 مئی 1912ء (61)