قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 43 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 43

قدرت ثانیہ کا دور اول عنوان نظر آئے ، قائم رہے گا۔“ وکیل امرتسر بحوالہ البدر 18 جون 1908 ) محولہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ تکمیل اشاعت کے اس دور میں حضرت مسیح موعود نے ہر طرح سے اشاعت دین حق کا فرض ادا کیا۔اور ہر ممکن ذریعہ اشاعت کو بھر پور طور پر استعمال میں لائے۔اور خصوصاً تصنیف کے ذریعہ آپ نے نہایت عمدگی سے اشاعت اسلام کی تصنیف و تالیف اور اشاعت ( دین حق ) کی طرف آپ کی توجہ اور اہمیت کا اس امر سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) نے بیعت کے بعد استفسار کیا کہ پیر ومرشد اپنے مریدوں کو مختلف مجاہدات بتایا کرتے ہیں اس لئے آپ بھی مجھے کوئی مجاہدہ بتا ئیں تو آپ نے تصنیف و اشاعت کا مجاہدہ ہی بتایا۔چنانچہ خلیفہ اول فرماتے ہیں: "حضرت سے میں نے مجاہدہ کے لئے پوچھا تو حضرت نے کہا کہ فصل الخطاب“ لکھو پھر پوچھا تو فرمایا' تصدیق براہین احمدیہ لکھو پھر پوچھا تو فرمایا کہ ایک کوڑھی کو اپنے مکان پر رکھ کر اس کا علاج کرو۔“ (الحکم 17 اکتوبر 1911 ) اس ارشاد کی تعمیل میں حضرت خلیفہ اول نے نہایت عمدہ کتا میں لکھیں۔جن کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل حضرت مسیح موعود کا اُس تعریفی بیان کا مفہوم درج کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔جو آپ نے اپنی کتاب ” آئینہ کمالات اسلام میں عربی زبان میں تحریر فرمایا۔اور جو ان کتب کے عظیم الشان مصنف کیلئے سرمایہ افتخار ہے۔(عربی عبارت کا مفہوم اختصاراً) آپ نے کئی کتابیں لکھی ہیں جو ایسے نکات علمی و معارف سے پر ہیں جو پہلی کتابوں میں کم ہی پائے جاتے ہیں۔اختصار و ایجاز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجہ کی فصاحت و بلاغت کا اہتمام ہے۔عبارات شراب طہور کی طرح بہت ہی عمدہ ہیں یوں لگتا ہے کہ یہ کتا بیں ایسے خوبصورت ریشمی کپڑے ہیں جن پر نہایت نفاست سے نقش و نگار اور قیمتی ہیرے جواہر جڑے ہیں جو عنبر کی خوشکن خوشبو میں گندھے ہیں۔(43)