قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 36
قدرت ثانیہ کا دور اوّل آپ کی اس تقریر کے بعد جملہ حاضرین نے متفقہ طور پر اس امر کا اظہار کیا کہ ہم آپ کی دل و جان سے اطاعت کریں گے اور آپ کی ہر نیک خواہش کا احترام کریں گے۔اس پر خلیفہ اسیح الاول حضرت مولوی نور الدین نے بیعت لی اور اس طرح جماعت احمد یہ میں اس مبارک دور کا آغاز ہوا جسے خلافت کہتے ہیں اور جسے حضرت مسیح موعود نے اپنی وصیت میں قدرت ثانیہ کے نام سے موسوم فرماتے ہوئے جماعت کو اس کے ظہور کی خوشخبری سنائی تھی اور بتایا تھا کہ میرے جانے یعنی فوت ہونے کے بعد خدا تعالیٰ کی قدیم سنت کے مطابق قدرت ثانیہ یعنی خلافت کا زمانہ شروع ہوگا اور جس کے متعلق خبر دیتے ہوئے حضور نے فرمایا تھا: و غمگین مت ہو اور دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔(الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305 ) اس بیعت میں قادیان اور مضافات کے بارہ سو احمدی جن کے دل فراق محبوب کی وجہ سے رنجیدہ لیکن خدائی وعدوں کی وجہ سے پریقین تھے۔شریک ہوئے جس میں مجلس معتمدین کے اکثر ممبر بھی شامل تھے۔اس بیعت نے آئندہ کے لئے ہر قسم کی بحثوں اور اعتراضوں کا اصولی طور پر خاتمہ کر دیا جو سلسلہ خلافت پر بعد میں کئے گئے۔اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام نے سب سے پہلا اجماع وفات مسیح پر کیا تھا اور ہمیشہ کے لئے حیات مسیح کے عقیدہ کی تردید کر دی تھی جماعت احمدیہ اور مجلس معتمدین نے پہلا اجماع خلافت پر کر کے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ جماعت میں ہمیشہ کے لئے خلافت کا بابرکت نظام جاری ہو گیا اور مجلس معتمدین کا وہ بیان اس پر مستزاد ہے۔جو اس موقع پر شائع کیا گیا کہ حضور۔۔۔کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے اپنے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمدیه موجوده قادیان و اقرباء حضرت مسیح موعود" باجازت۔(36)