قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 33 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 33

قدرت ثانیہ کا دور اوّل کے بعد بالکل خاموشی چھا گئی اور کسی نے بھی اس کے خلاف نہ بول کر اس بات کی تائید کر دی اور اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔اور انسان محض ایک ظاہری آلہ ہے ورنہ کوئی طاقت نہ تھی جو ایک ایسے شخص کو خلیفہ بنا سکتی جو بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود کا بیٹا تو کیا قریبی رشتہ دار بھی نہ تھا۔ہاں اسے وسیع علم وتجربہ کے ساتھ ساتھ عشق قرآن ورسول میں ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب کے مشورے کے بعد ممبران معتمدین مولانا حکیم نورالدین (اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قوم کی اس عظیم خدمت کو قبول کرنے کی پیش کش کی۔اس موقع کا آنکھوں دیکھا حال ایک پرانے اور مخلص رفیق حضرت بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی کی زبانی جو اس سارے عرصہ میں مجلس معتمدین کے وفد کے ساتھ ساتھ رہے۔درج ذیل ہے: چنانچہ یہ جملہ احباب مع دیگر اکابر رفقاء اور بزرگان جماعت سیدنا حضرت نور الدین صاحب کے مکان پر حاضر ہوئے اور مناسب طریق پر اس درخواست کو پیش کیا مگر حضرت ممدوح نے کچھ سوچ اور تردد کے بعد فرمایا ”میں دعا کے بعد جواب دوں گا۔چنانچہ وہیں پانی منگوایا گیا حضرت نے وضو کیا اور غربی کوچہ کے متصل دالان میں نماز نفل ادا کی۔اس عرصہ میں یہ وفد باہر صحن میں انتظار کرتا رہا نماز نفل اور دعاؤں سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے فرمایا: چلو ہم سب وہیں چلیں جہاں ہمارے آقا کا جسد اطہر اور ہمارے بھائی انتظار میں ہیں۔چنانچہ حضرت مولانا کی معیت میں تمام حاضرین باغ کی طرف روانہ ہوئے اور سڑک پر سے مغرب کی طرف سیدھے شمالی حصہ باغ میں جہاں جنازہ رکھا تھا پہنچے اور اس جگہ حضرت نے ایک مختصر تقریر فرمائی اور اس کے بعد حضرت مولانا نورالدین صاحب کے ہاتھ پر بیعت خلافت ہوئی اور بعدہ نماز جنازہ ادا ہوئی۔“ الفضل 23 فروری 1955) (33)