قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 27 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 27

تدرت ثانیہ کا دور اوّل میں تو چاہتا ہوں کہ میں مالیر کوٹلہ پہنچوں مگر اس عشق و محبت کو کیا کہوں جو مجھے قادیان سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا۔بہر حال کوشش کروں گا۔اگر اللہ تعالیٰ نے مدد کی قادیان جانکلوں۔(مکتوب 30 جنوری 1896ء ، اصحاب احمد جلد نمبر 2 صفحہ 98) مکرم ملک صلاح الدین صاحب مؤلف اصحاب احمد کی تحقیق کے مطابق حضرت مولوی صاحب اپریل 1896ء سے اکتوبر 1896 ء تک وہاں رہے اور حضرت نواب صاحب کے علاوہ بیسیوں دوسرے خوش قسمت حضرات کو قرآن مجید و طب کے درس سے فائدہ پہنچایا اس کے بعد آپ 1902ء میں بھی مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے تھے۔ان متفرق کاموں کے علاوہ حضرت مسیح موعود نے بعض اہم جماعتی کاموں کی نگرانی بھی آپ کے سپر دفرمائی تھی مثلاً یکم فروری 1900 ء سے قادیان کا مڈل سکول ہائی سکول بنایا گیا۔تو اس کے انتظام کے لئے ٹرسٹیوں کی ایک کمیٹی بنائی گئی جس کے ممبر وہ حضرات تھے جو سکول کے لئے 60 روپے سالانہ اپنی آمدنی سے دیں۔یا سکول کے لئے چندہ کریں یا مدرسہ کی کسی رنگ میں علمی مدد کریں۔اس کمیٹی کے نائب صدر حضرت مولانا صاحب تھے اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب صدر تھے۔مگر چونکہ نواب صاحب محترم اپنی مصروفیات کے سلسلہ میں اکثر قادیان سے باہر رہتے تھے۔اس لئے عملاً حضرت مولانا صاحب ہی تمام امور کی نگرانی فرماتے تھے۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتظام مدرسہ نواب صاحب کی ہجرت کے بعد اُن کے سپر دفرمایا تھا۔لیکن جب بعض مصروفیات کی وجہ سے آپ کو قادیان سے باہر جانا پڑا تو مدرسہ کا انتظام ایک کمیٹی کے سپر د کیا گیا۔جس کے صدر حضرت خلیفہ اول تھے۔اور مولوی محمد علی صاحب۔مکرم شیخ یعقوب علی عرفانی، مکرم مفتی محمد صادق ممبر تھے۔حضرت مولانا صاحب کو اس سکول کی خدمات کے سلسلہ میں یہ اولیت بھی حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود کی طرف سے چندہ کی تحریک ہونے پر حسب معمول سب سے پہلے آپ نے لبیک کہا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں : واضح رہے کہ اوّل بنیاد چندہ کی اخویم مخدومی مولوی نور الدین نے ڈالی ہے کیونکہ (27)