قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 25 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 25

قدرت ثانیہ کا دور اوّل میں قادیان سے باہر ایک دم گزارنا بھی موت کے برابر سمجھتا ہوں یہی وجہ ہے کہ میں قادیان سے باہر ہزاروں روپیہ پیش کرنے کی صورت میں بھی جانا نہیں چاہتا۔ہاں اگر کبھی نکلتا ہوں تو محض اس لئے کہ اس پاک وجود کا حکم ہوتا ہے۔جس کے حضور حاضر رہ کر یہ عظیم الشان فائدہ اُٹھا رہا ہوں جس نے ہزاروں نہیں بلکہ دنیا کے سارے مال و متاع سے مجھے مستغنی کر دیا ہے۔میں نے یہ باتیں اس لئے نہیں کہی ہیں کہ میں تمہیں بتاؤں کہ امام کے ساتھ میرا کیا تعلق ہے۔انمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات میری غرض فقط یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو خصوصاً ان دوستوں کو جو مجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں۔ان فوائد سے اطلاع دوں جو مجھے یہاں رہ کر حاصل ہوئے ہیں اور جنہوں نے دنیا کی ساری دولت کو میرے سامنے بیچ کر دیا ہے۔تا کہ وہ بھی یہاں رہ کر وہ بات حاصل کریں جو امام کے (الحکم 10 جنوری 1904) آنے کی اصل غرض ہے۔“ اسی طرح ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں: اپنی نسبت کہتا ہوں اور اپنی کمزوریوں پر نظر کر کے خیال کرتا ہوں کہ میں اس گاؤں سے ایک گھنٹہ بھی باہر جانا موت سمجھتا ہوں بغیر اس حالت اور صورت کے کہ مجھے امام نے حکم دیا ہو۔“ (الحكم 31 مئی 1904) جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔آپ نے قادیان میں اپنا ایک مطب کھول لیا تھا۔اس کے متعلق حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں: حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب سلمہ نے جو شفاخانہ اپنے صرف خاص سے کھول رکھا ہے جس میں مفت دو املتی ہے۔اس میں دور دور سے مریض آکر شفایاب ہوتے ہیں۔اور روزانہ اوسط مریضوں کی تعداد میں سے پچاس تک رہی چنانچہ سال تمام میں جن لوگوں نے فیض حاصل کیا ان کی تعداد قریباً 20000 ( بیس ہزار ) ہے۔“ (الحام 10 جنوری 1899) (25)