قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 22
قدرت ثانیہ کا دور اول بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو عیسائیوں کے رد میں ایک کتاب لکھنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ آپ نے کشمیر واپس جا کر ایک معرکة الآراء کتاب بنام فصل الخطاب في ردابل الكتاب تصنیف فرمائی۔حضرت اقدس سے عاشقانہ تعلق کی وجہ سے آپ کی تحریر وتقریر سب احمدیت کے لئے وقف ہوگئی 1888ء میں آپ جموں میں بیمار ہو گئے حضرت اقدس بنفس نفیس آپ کی عیادت کے لئے تشریف لائے 1889ء میں آپ کا عقدِ ثانی لدھیانہ میں حضرت منشی احمد جان صاحب کی صاحبزادی صغریٰ بیگم صاحبہ سے ہوئی اس میں حضرت اقدس نے بھی شمولیت فرمائی۔23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں بیعت اولی میں آپ کی اہلیہ محترمہ کو اول المبائعین میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ریاست جموں و کشمیر کے خوشامدی اور موقع پرست لوگوں میں آپ جیسے مرد مومن کی رہائش زیادہ عرصہ نہ رہ سکی کیونکہ آپ احقاق حق اور ابطال باطل کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔چنانچہ آپ اپنی ان صفات اور خصوصیات کی وجہ سے 1892ء میں سرکار جموں وکشمیر کی ملازمت سے فارغ ہو گئے۔اس موقع پر بھی آپ نے نہایت عمدہ اور قابل تقلید نمونہ دکھایا۔یعنی اتنی عمدہ ملا زمت سے فارغ ہونے کا آپ کو مطلق صدمہ نہ ہوا۔اور آپ اسی طرح روز مرہ کے کاموں میں مشغول رہے۔جیسے ملازمت کے زمانہ میں تھے۔گویا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں اور صبر جمیل اور رضا بالقضاء کا بہترین مظاہرہ کیا۔فتادیان میں آمد جموں اور کشمیر سے تعلق ختم ہونے پر آپ بھیرہ تشریف لے آئے۔اور ارادہ کیا کہ خدمت خلق کے لئے ایک عظیم الشان ہسپتال جاری کریں لیکن تدبیر کند بنده تقدیر کند خنده آپ کے اس ارادہ کے وقت ملائکہ ہنس رہے ہوں گے کہ دنیا کا یہ عظیم الشان انسان جو بنی نوع (22)