قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 20 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 20

قدرت ثانیہ کا دور اول متعدد بزرگوں کی صحبت میں رہے۔کشمیر کی اقامت کے دوران 1882 ء میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اشتہار نشان نمائی کی عالمگیر دعوت ملا جو ریاست کے پرائم منسٹر نے آپ کو بھجوایا تھا۔۔۔اس اشتہار کو دیکھتے ہی آپ کے قلب منور نے سکینت وطمانیت محسوس کی اور یہ جاننے کی وجہ سے کہ زمانہ کسی ایسے مصلح کا تقاضا کر رہا ہے۔اسی وقت حضرت اقدس کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔1884ء میں پہلی بار قادیان تشریف لائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلی ملاقات کا واقعہ نہایت ایمان افروز ہے جسے حضرت مولانا صاحب کے الفاظ میں ذکر کر نا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: فوراً اس اشتہار کے مطابق تحقیق کے واسطے قادیان چل پڑا اور روانگی سے پہلے وو اور دورانِ سفر سے اور پھر قادیان کے قریب پہنچ کر قادیان کو دیکھتے ہی نہایت اضطراب اور کپکپا دینے والے دل سے دعائیں کیں۔جب میں قادیان میں پہنچا تو جہاں میرا یکہ ٹھہرا تھا۔وہاں ایک بڑا محراب دار دروازہ نظر آیا جس کے اندر چار پائی پر ایک بڑا ذی وجاہت آدمی بیٹھا نظر آیا۔میں نے یکہ بان سے پوچھا کہ مرزا صاحب کا مکان کون سا ہے؟ جس کے جواب میں اس نے اسی ریشائل مشتبہ داڑھی والے کی طرف جو اس چار پائی پر بیٹھا تھا اشارہ کیا کہ یہی مرزا صاحب ہیں۔مگر خدا کی شان اس شکل کو دیکھتے ہی میرے دل میں ایسا انقباض پیدا ہوا کہ میں نے یکہ والے سے کہا کہ۔ذرا ٹھہرو۔میں بھی تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا اور وہاں میں نے تھوڑی دیر کے واسطے بھی ٹھہر نا گوارا نہ کیا۔اس شخص کی شکل ہی میرے واسطے ایسی صدمہ دہ تھی جس کو میں ہی سمجھ سکتا ہوں۔آخر طوعاً اور کرہا میں اس (مرزا امام الدین) کے پاس پہنچا میرا دل ایسا منقبض اور اس کی شکل سے متنفر تھا کہ میں نے السلام علیکم تک بھی نہ کہا۔کیونکہ میرا دل برداشت ہی نہ کرتا تھا الگ ایک خالی چار پائی پڑی تھی اسی پر بیٹھ گیا۔اور دل میں ایسا اضطراب اور تکلیف تھی کہ جسے بیان کرنے میں وہم ہوتا ہے کہ لوگ مبالغہ نہ سمجھیں۔بہر حال میں وہاں بیٹھ گیا دل میں سخت متحیر تھا کہ (20)