قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 142 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 142

قدرت ثانیہ کا دور اوّل مولانا حکیم نور الدین بھی ایسے ہی با کمال تھے افسوس ہے کہ آج ایک زبر دست عالم ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا۔“ اخبار وطن:- زمیندار 19 مارچ 1914) مولوی صاحب مرحوم کیا بلحاظ طبابت و حذاقت اور کیا بلحاظ سیاحتِ علم و فضیلت و علمیت ایک برگزیدہ (بزرگوار) تھے۔علم سے ان کو عشق تھا اور فراہمی کتب کا خاص شوق۔( وطن 20 مارچ 1914 ) میونسپل گزٹ نے آپ کی خدمت قرآن کو سراہتے ہوئے لکھا:۔مرحوم جیسا کہ زمانہ واقف ہے ایک بے بدل عالم اور زہد واتقا کے لحاظ سے مرزائی جماعت کے لئے تو واقعی ایک پاکباز اور ستودہ صفات خلیفہ تھے۔لیکن اگر ان کے مرزائیانہ مذہبی عقائد نظر انداز کر کے دیکھا جائے تو بھی وہ ہندوستان کے مسلمانوں میں بے شک ایک عالم تبحر اور جید فاضل تھے۔کلام اللہ سے آپ کو جو عشق تھا وہ غالباً بہت کم عالموں کو ہوگا۔اور جس طرح آپ نے عمر کا آخری حصہ احمدی جماعت پر صرف قرآن مجید کے حقائق و معارف آشکارا فرمانے میں گزارا۔بہت کم عالم اپنے حلقہ میں ایسا عمل کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔حکمت میں آپ کو خاص دستگاہ تھی۔اسلام کے متعلق آپ نے نہایت تحقیق و تدقیق سے کئی کتابیں لکھیں اور معترضین کو دندان شکن جواب دئے۔بہر حال آپ کی وفات مرزائی جماعت کے لئے صدمہ عظیم اور عام طور پر اہل اسلام کے لئے بھی کچھ کم افسوسناک نہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو غریق رحمت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔“ میونسپل گزٹ 19 مارچ 1914ء) 000 (142)