قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 140
تدرت ثانیہ کا دور اوّل میں نے سوچ سمجھ کر کہی ہیں میرے دماغ میں خشکی ہو تو ہومگر ان باتوں میں خشکی نہیں۔آپس میں محبت رکھو۔تنازعہ نہ کرو۔بدگمانی نہ کرو کوئی اگر ناراض ہو تو صبر سے کام لو اور دعائیں کرو۔۔۔۔(الحکم 7 جنوری 1911 ء ) 4مارچ 1914ء کو آپ نے سلسلہ کے آئندہ نظام اور اپنی اولاد کے لئے وصیت فرمائی اپنے بعد خلافت کا صراحتاً ذکر فرمایا تاکہ قدرت ثانیہ کا دائی وعدہ برقرار رہے۔آپ کی وصیت کے الفاظ یہ تھے: بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسوله الكريم واله مع التسليم خاکسار بقائمی حواس لکھتا ہے۔لا اله الا الله محمد رسول اللہ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ہمارے گھر مال نہیں ان کا اللہ حافظ ہے ان کی پرورش یتامی و مساکین سے نہ ہو کچھ قرضہ حسنہ جمع کیا جاوے لائق لڑکے ادا کریں یا کتب۔جائداد وقف علی الاولاد ہو۔میرا جانشین متقی ہو۔ہر دلعزیز عالم باعمل ہو۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے اصحاب سے سلوک چشم پوشی۔درگزر کو کام میں لاوے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔والسلام ( دستخط ) 7 مارچ 1914 وصیت تحریر کرنے کے بعد آپ نے مومنانہ فراست سے کام لیتے ہوئے مولانامحمد علی صاحب کو ارشاد فرما یا کہ وہ وصیت پڑھ کر سنائیں۔حضور کے ارشاد پر مولوی صاحب نے یہ وصیت تین دفعہ پڑھ کر سنائی۔یادر ہے کہ اس سے پہلے بھی حضرت خلیفہ اسی الاول نے ایک وصیت تحریر فرما کر ایک شاگرد شیخ تیمور صاحب کو دی تھی۔متعدد مصدقہ روایات کے مطابق اس میں آپ نے اپنے جانشین کے طور پر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدکا نام لکھا تھا۔ہدایت دی تھی کہ علی اسوۃ ابی بکر جس کا نام (140)