قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 133
قدرت ثانیہ کا دور اوّل خرچ ہوتا ہے۔اس طرح انتظام ہو اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سے پہلے ایک انجمن تھی جس کو حضرت صاحب نے توڑ دیا اور حضرت صاحب نے نواب صاحب کو امیر مقرر کیا تھا۔مولوی محمد علی صاحب ، حضرت مولوی نورالدین صاحب، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو اس کا مبر مقرر کیا تھا کہ آپ نواب صاحب کو مشورہ دیں اور جو حکم (نواب صاحب) دیں ماننا ہو گا۔چنانچہ کئی سال تک اس طریق پر کام ہوتا رہا۔۔۔۔آپ نے فرمایا۔۔۔ایک اور تجویز کرتا ہوں اور وہ یہ کہ مولوی صاحب کی رائے چالیس آدمیوں کی رائے کے برابر ہو۔۔۔۔۔اس وقت میرے سامنے حضرت صاحب کو ان لوگوں نے دھوکا دیا کہ حضرت ہم نے مولوی صاحب کو پریذیڈنٹ بنایا ہے اور پریذیڈنٹ کی رائیں پہلے ہی زیادہ ہوتی ہیں۔حضرت صاحب نے کہا ہاں یہی میرا منشاء ہے کہ ان کی رائیں زیادہ ہوں۔۔۔پھر تفصیلی قواعد مجھے ہی دیئے گئے تھے اور میں ہی حضرت صاحب کے پاس لے کر گیا تھا۔اس وقت آپ کوئی ضروری کتاب لکھ رہے تھے۔آپ نے پوچھا کیا ہے۔میں نے کہا۔انجمن کے قواعد ہیں۔فرمایا ” لے جاؤ ابھی فرصت نہیں۔گویا آپ نے ان کو کوئی وقعت نہ دی۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1922 ص 38) مندرجہ بالا بیان سے یہ امر بخوبی ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی جانشینی اور قائم مقامی کی غرض سے کوئی انجمن قائم نہیں کی تھی بلکہ خود سلسلہ کا کام کرنے والوں نے کام میں سہولت و آسانی کی خاطر ایک انجمن بنانے کی خواہش کی اور خود ہی اس کے قواعد وضوابط مرتب کر کے حضرت مسیح موعود سے ان کی منظوری حاصل کی۔اگر آپ کی وفات کے بعد انجمن کی جانشینی مدنظر ہوتی تو یہ حضور کا اپنا فرض منصبی تھا کہ الوصیۃ، تحریر کرنے کی طرح صدر انجمن قائم فرماتے۔نیز اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود انجمن کو کوئی با اختیار اور مؤثر ادارہ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے تھے۔کیونکہ انجمن کے دس ممبروں کے مقابلہ میں حضرت مولانا نورالدین کی رائے کو چالیس آدمیوں کے برابر قرار دیا۔ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں انجمن کوئی مؤثر اور با اختیار حیثیت حاصل (133)