قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل

by Other Authors

Page 127 of 149

قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 127

قدرت ثانیہ کا دور اوّل دار القران: حضرت خلیفہ اول جن کی زندگی قرآن کی خدمت و اشاعت کے لئے وقف تھی۔اس بات کے شدید طور پر خواہش مند تھے کہ قرآن مجید کی قرآت و تلاوت علم تجوید کے مطابق نہایت عمدگی اور صحت کے ساتھ ہو اور اس غرض کے لئے آپ کی خواہش تھی کہ حجاز یا موصل سے کسی خوش الحان کی خدمات حاصل کی جائیں آپ نے اس کے لئے ایک مرتبہ کوشش بھی کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی اسی طرح آپ کی یہ خواہش تھی کہ درس القرآن کے لئے ایک خاص کمرہ ہونا چاہیے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے فرمایا: اس وقت میری تین بڑی خواہشیں ہیں ایک یہ کہ قرآن مجید کے درس کے لئے وسیع کمرہ ہو اس پر گیارہ ہزار (11000 ) کے قریب خرچ ہوتا ہے۔66 ریویو آف ریلیجنزار دو فروری 1913ء) اس پاک خواہش کی تکمیل کے لئے آپ نے آخری ایام میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کو دار القرآن کی تعمیر کے لئے مقررفرمایا جس کے متعلق ”الحکم“ نے تحریک کرتے ہوئے لکھا: حضرت خلیفہ اسیح نے حضرت میر ناصر نوب صاحب قبلہ کو یہ خدمت سپرد کی ہے کہ اس دارالقرآن کی تعمیر کا کام شروع کر دیں اس کے لئے دس ہزار روپیہ بکار ہو گا مگر اس قوم کے لئے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد دو مرتبہ کر چکی ہے۔اس رقم کو پورا کر دینا کوئی مشکل کام نہیں۔اس مقصد کے لئے کل روپیہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کے نام آنا چاہیے اور کو پن پر تعمیر دارالقرآن لکھ دینا ضروری ہوگا۔“ (الحلم 28/21فروری 1913ء) اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت کی یہ خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ آپ کے مشورہ سے الگ ہال کی بجائے بیت اقصیٰ میں ایک بڑا ہال کمرہ بنایا گیا جس میں درس کے کام کے علاوہ نمازیوں کے آرام سے نماز پڑھنے کا انتظام بھی ہو گیا۔۷۱ - نور ہسپتال : مندرجہ عنوان نام ہسپتال حضرت میر ناصر نواب صاحب کے اخلاص (127)