قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 116
درت ثانیہ کا دور اول کرتے تھے دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا۔حضرت عمر نے عرض کیا کہ آپ ان سے جنگ کیسے کر سکتے ہیں جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تو یہ ہے کہ مجھے ان سے جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ توحید اور میری رسالت کے قائل ہو جائیں اور جو ایسا کرے اس کا مال و خون محفوظ ہے۔حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ جس نے نماز اور زکوۃ میں فرق کیا میں اس سے ضرور جنگ کروں گا۔( تاریخ الخلفا ) حضرت خلیفہ اول نے بھی اپنے زمانہ خلافت میں زکوۃ کی تحصیل کی طرف اپنی توجہ مبذول فرمائی یہاں تک کہ بیعت لیتے وقت بھی زکوۃ کی ادائیگی کے اہتمام کرنے کا عہد لیا، اور یہ الفاظ عہد بیعت میں شامل کئے اور انتظام زکوۃ بہت احتیاط سے کروں گا“ نیز جب بعض نام نہا د احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض دعاوی کا انکار اور بعض کا اقرار کرنا شروع کیا تو آپ نے نہایت سختی سے ان بحثوں کو روکا اور اعلیٰ وارفع مقام کی تعیین کی یعنی آپ کو ظلی نبی قرار دیتے ہوئے آپ کے بعد اپنی خلافت پر آیت استخلاف چسپاں کی اور نظام خلافت سے برگشتگی کرنے والوں کو فاسق کا خطاب دیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ اعتراض کرنا کہ خلافت حقدار کو نہیں پہنچی یہ رافضیوں کا عقیدہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا خلیفہ بنا دیا جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے۔فرشتے بن کر اطاعت فرمان برداری کرو ابلیس نہ بنو۔“ ( بدر 4 جولائی 1912) گویا که با وجود ذی اثر اور صاحب وجاہت لوگوں کی انتہائی کوشش کے کہ کسی طرح حضرت مسیح موعود کے مقام کو کم کیا جائے تاکہ آپ کے بعد خلافت جاری ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہو اور مانعین زکوۃ کی طرح بعض دعاوی کو تو تسلیم کر لیا جائے اور بعض کا انکار کر دیا جائے۔حضرت خلیفہ اول نے حضرت ابو بکر جیسے عزم و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی ہر کوشش و تد بیر کوسختی سے کچل کر رکھ دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحیح مقام کو متعین اور ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کر دیا کہ آپ کے بعد آپ کی جانشین انجمن یا سوسائٹی نہیں بلکہ خلیفہ ہے۔(116)