قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 8
تدرت ثانیہ کا دور اول ترجمہ:۔تو وطن کی طرف ہرگز توجہ نہ کر اس میں تیری اہانت ہوگی اور تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی۔5۔حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب کی طبیعت بہت علیل رہی چنانچہ اسی وجہ سے آپ کو درس قرآن ملتوی رکھنا پڑا۔آپ کی طبیعت کی ناسازی دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی صحت کے لئے کثرت سے دُعا شروع کی تو 6 جنوری ( 1905۔ناقل ) کو آپ نے تشریف لاکر فرمایا میں دُعا کر رہا تھا کہ یہ الہام ہوا: إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا انَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِشِفَاءٍ مِّنْ مِثْلِهِ ( تذکره صفحه 440) ترجمہ: جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے اگر تمہیں اس میں کچھ شک ہو تو اس کی شفا کی مثل کوئی شفا پیش کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ایک مرید با صفا ، عالم باعمل حاجی الحرمین حافظ علامه نور الدین کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (عربی سے ترجمہ) ”میرے سب دوست منتقی ہیں ان میں سب سے زیادہ صاحب بصیرت، صاحب علم، اکمل الایمان والاسلام، محبت، معرفت، خشیت اور یقین اثبات والا بزرگ فرد متقی عالم، صالح ، فقیہ عظیم الشان محدث و ماہر طبیب ، حکیم حاجی الحرمین ، حافظ قرآن، قریشی فاروقی جس کا اسم گرامی حکیم نور الدین بھیروی ہے۔اللہ تعالیٰ اسے دین دنیا میں اجر عظیم سے نوازے۔صدق وصفا، اخلاص و محبت اور وفاداری میں میرے سب مریدوں سے وہ اول نمبر پر ہے اور ایثار وانقطاع اور خدمت دین میں عجیب حال میں ہیں۔اس نے خدمت دین میں بہت خرچ کیا ہے اور میں نے انہیں ایسا مخلص پایا ہے جو اولا دوازواج پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں اور ہمیشہ اسی کی رضا کے خواہاں رہتے ہیں اور ہر حال میں شکر گزار رہتے ہیں۔وہ شخص رقیق القلب ،صاف طبع، حلیم ، کریم اور (8)