قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 114
قدرت ثانیہ کا دور اوّل ضرورت کا احساس کر کے ہمیشہ کے لئے قرآن مجید کی حفاظت وصحت کا انتظام کردیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے بھی اپنے زمانہ میں قرآن کریم کی ایسی ہی عظیم الشان خدمت سر انجام دی یعنی قرآن مجید کی معنوی حفاظت کا خوب اہتمام فرمایا۔جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود نے رکھ دی تھی حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں اسے منظم طریق پر جاری کیا گیا اور بیعت لیتے وقت ہی فرمایا: ابوبکر" کے زمانہ میں صحابہؓ کو بہت سی مساعی جمیلہ کرنی پڑیں سب سے پہلا اہم ( بدر 2 جون 1908ء) کام جو کیا وہ جمع قرآن ہے اب موجودہ صورت میں جمع یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کرنے کی طرف خاص توجہ ہو۔“ آپ نے زندگی بھر اس کام کی طرف غیر معمولی توجہ دی چنانچہ ایک مشہور غیر احمدی جرنلسٹ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان تشریف لائے اور انہوں نے اپنے دو دن کے قیام کے جو تأثرات بیان کئے ہیں ان سے حضرت خلیفہ اول کی خدمت قرآن کا اندازہ ہوتا ہے وہ لکھتے ہیں : مولوی نور الدین صاحب جو بوجہ مرزا صاحب کے خلیفہ ہونے کے اس وقت احمدی جماعت کے مسلمہ پیشوا ہیں جہاں تک میں نے دو دن ان کی مجالس وعظ و درس قرآن شریف میں رہ کر ان کے متعلق غور کیا ہے مجھے وہ نہایت پاکیزہ اور محض خالصت اللہ کے اصول پر نظر آیا کیونکہ مولوی صاحب کا طرز عمل قطعار یا اور منافقت سے پاک ہے اور ان کے آئینہ دل میں صداقت اسلام کا ایک ایسا زبردست جوش ہے جو معرفت توحید کے شفاف چشمے کی وضع میں قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر کے ذریعے ہر وقت ان کے بے ریا سینے سے اہل اہل کر تشنگان معرفت توحید کو فیضیاب کر رہا ہے اگر حقیقی اسلام قرآن مجید ہے تو قرآن مجید کی صادقانه محبت جیسی کہ مولوی صاحب موصوف میں میں نے دیکھی ہے اور کسی شخص میں نہیں دیکھی۔یہ نہیں کہ وہ تقلیداً ایسا کرنے پر مجبور ہیں بلکہ وہ ایک زبر دست فیلسوف انسان ہے اور نہایت ہی زبردست فلسفیانہ تنقید کے ذریعے قرآن مجید کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے کیونکہ جس قسم کی زبردست فلسفیانہ تفسیر قرآن مجید کی میں (114)