قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 71
قدرت ثانیہ کا دور اوّل بھی بدستور جماعت کی خدمت کرتا رہا اور غیر ممالک میں اس کے مضامین کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔کیونکہ اس میں پیش کردہ تعلیم اسلام کی صحیح تعلیم نظر آتی تھی۔اس رسالہ کی ادارت مولوی محمد علی صاحب ایم اے مرحوم کے ذمہ تھی جو اس زمانہ میں انجمن احمد یہ کے سیکریٹری بھی تھے۔کیم جون 1909ء میں آپ کے ذمہ ترجمہ قرآن کا کام ہوا اور رسالہ کے ایڈیٹر حضرت مولوی شیر علی صاحب ایم اے مقرر ہوئے۔4- تشخيذ الا ذہان 1905 کے جلسہ سالانہ میں حضرت مسیح موعود نے نوجوانوں کو خدمت ( دین حق ) کرنے کی تحریک فرمائی تو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( حضرت مصلح موعود ) کے قلب صافی میں جوش پیدا ہوا اور آپ نے ایک انجمن کی بنیاد ڈالی جس کا نام حضرت مسیح موعود نے انجمن تشحیذ الاذہان رکھا اور اس انجمن کی طرف سے جاری ہونے والے رسالہ کا نام تخمیذ الاذہان تجویز فرمایا۔اس رسالہ کی اہمیت اور عظمت اس امر سے ظاہر ہے۔کہ اس کے مدیر حضرت محمود تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے علوم ظاہری و باطنی سے پر فرمایا تھا۔اس وقت آپ کی عمر 17 سال تھی اور یہ رسالہ انجمن تشخیذ الاذہان کے ممبروں نے بلا مد دے غیرے اپنے جیب خرچ سے رقم جمع کر کے جاری کیا تھا۔اور اُس کی افادیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ امیر غیر مبا تعین مولوی محمد علی صاحب مرحوم نے اس میں شائع ہونے والے حضرت محمود کے مضامین کو دیکھ کر لکھا: جس نور کی شعاعیں محمود کے قلب سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہیں وہ کچھ ایسا پاک اور نورانی ہے کہ جس کی نظیر ہی نہیں مل سکتی۔“ (ریویو آف ریلیجز جلد 5 صفحہ 30) حضرت مصلح موعود کے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد مکرم قاضی ظہور الدین صاحب اکمل 1921 ء تک اس کی ادارت فرماتے رہے۔مندرجہ بالا اخبارات ورسائل حضرت مسیح موعود کے بابرکت عہد میں جاری ہوئے اور حضرت (71)