قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 70
قدرت ثانیہ کا دور اوّل اسی طرح حضرت خلیفہ اول نے بھی مکرم مفتی صاحب کے میدان صحافت میں داخل ہونے کو محمد افضل صاحب کا نعم البدل قرار دیتے ہوئے فرمایا: ” میرا دل گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ قادیان سے کوئی مفید سلسلہ جاری ہو اور وہ رک جائے البدر کے چند روزہ وقفہ کا رنج تھا سر دست اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک تدبیر نکالی ہے کہ میاں معراج دین عمر جن کو دینی امور میں اللہ تعالیٰ نے خاص جوش بخشا ہے۔اس طرف متوجہ ہوئے اور نصرت اللہ یوں جلوہ گر ہوئی کہ اس کی ایڈیٹری کے لئے میرے نہایت عزیز مفتی محمد صادق صاحب ہیڈ ماسٹر ہائی سکول قادیان کو منتخب کیا گیا اور اس تجویز کو حضرت امام صاحب نے بھی پسند فرمایا ہے میں یقین کرتا ہوں کہ ہمارے احباب اس نعم البدل پر بہت خوش ہوں گے۔(بدر 16 اپریل 1905ء) اس جگہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت مفتی صاحب کی زیر ادارت آنے پر اس اخبار کا نام البدر کی بجائے تفاولاً بدر کر دیا گیا کیونکہ البدر چودھویں کے چاند کو کہتے ہیں جو یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ کل سے زوال شروع ہورہا ہے مگر بدر اس مقام کا نام ہے جہاں حق و باطل کے درمیان پہلی جنگ ہوئی۔اور رحمان نے شیطان پر غلبہ پایا حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں 1912 ء تک یہ اخبار حضرت خلیفہ اول کے فتاوی، ڈائری اور درس القرآن اپنے مخصوص انداز میں شائع کرتے ہوئے نہایت مفید خدمات سرانجام دیتا رہا۔3- ریویو آف ریلیجنز حضرت مسیح موعود کی خواہش کے مطابق 1902ء میں یہ رسالہ غیر ممالک میں تبلیغ دین حق کے لئے جاری ہوا۔ابتدا میں حضرت مسیح موعود خود اس میں مضامین لکھتے رہے۔جس کی وجہ سے یہ رسالہ بہت مقبول ہو گیا۔اور بعض غیر از جماعت لوگوں نے یہ خواہش کی کہ اس میں احمدیت کا ذکر نہ کیا جائے۔اور بعض احمد یوں نے جو سستی شہرت کے خواہاں تھے۔اس تجویز کا خیر مقدم کیا تو حضرت مسیح موعود نے نہایت سختی اور حقارت سے اس تجویز کورڈ کر دیا۔یہ رسالہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں (70)