قدرت ثانیہ کا دورِ اوّل — Page 32
قدرت ثانیہ کا دور اوّل فرمائی۔اسی دن شام کی گاڑی سے مسیح زمان کا جسدِ اطہر قادیان کے لئے بٹالہ لا یا گیا۔جو قادیان سے قریباً گیارہ میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں سے شمع مہدویت و مسیحیت کے پروانوں نے اس مقدس وجود کو اپنے کندھوں پر قادیان پہنچایا۔جس وقت حضرت مسیح موعود کا جنازہ قادیان پہنچا صبح کی نماز کا وقت تھا۔حضور کے جنازہ کو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب والے باغ میں رکھا گیا۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جنازہ باغ والے مکان میں رکھا گیا تھا لیکن از روئے تحقیق حضرت مسیح موعود کا جنازہ سب سے پہلے مذکورہ بالا باغ میں رکھا گیا وہیں نماز جنازہ ادا ہوئی جس کے بعد جنازہ کو باغ والے مکان میں منتقل کیا گیا۔) جن جماعتوں کو لاہور سے بذریعہ تا روفات کی خبر دی گئی تھی ان میں سے اکثر لوگ دیوانہ وار قادیان پہنچ گئے۔مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ کے اکثر بیرونی ممبر بھی جنازہ کے ساتھ ہی قادیان پہنچ چکے تھے۔حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے (جواس زمانہ میں مجلس معتمدین کے صدر تھے ) حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب ( مرحوم و مغفور ) کو مجلس کے ممبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رات سے ان لوگوں نے کچھ نہیں کھایا پیا آپ جائیں اور ان کے مناسب حال کچھ کھلا ئیں پلائیں، اس موقعہ پر حضرت بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی کو بھی مولانا سرور شاہ صاحب کے ہمراہ روانہ کیا چنانچہ حضرت بھائی عبدالرحمان صاحب فرماتے ہیں۔”جب حضرت مولانا مہمانوں کو لے کر چلے تو حضرت نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم بھی مولوی صاحب کی مدد کرو۔“ (الفضل 23 فروری 1955) مجلس معتمدین کے اس وفد کو حضرت مولانا مولوی محمد سرور شاہ صاحب نے مکرم نواب محمد علی خان کے دالان کے جنوب مغربی حصہ میں (مسجد مبارک کے بالمقابل ) کھانا کھلایا۔اور مکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک تقریر کی جو موقع کی نزاکت واہمیت سے بہت مؤثر ہوئی۔اس تقریر میں خواجہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر خیر کرتے ہوئے آئندہ کے متعلق مشورہ طلب کیا تھا۔جس پر شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا میں نے قادیان آتے ہوئے رستہ میں بار بار یہی کہا ہے کہ اس بڑھے کو آگے کرو اس کے بغیر یہ جماعت قائم نہ رہ سکے گی۔شیخ صاحب کے اس قول (32)